خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 389

1954ء 389 خطبات محمود مسلمانوں کے رشتہ دار تھے۔ معاہدہ کی وجہ سے وہ قریب آ کر تو مل نہیں سکتے تھے انہوں نے سمجھا کہ چلو دور سے ہی ان کی شکلوں کو دیکھ لیا جائے۔ ادھر مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ملیر کی وجہ سے اُن کی کمریں گبڑی ہو چکی تھیں اور ان کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ وہ صحابی کہتے ہیں میں طواف کرتے ہوئے گبڑا ہو کر چلتا تھا لیکن جونہی جبل ابوالقیس کے سامنے آتا تھا اپنی کمر سیدھی کر لیتا اور اکڑ کر چلنے لگتا۔ جب اُس جگہ سے ہٹ جاتا تو پھر گڑا ہو کر چلنے لگتا۔ جب میں نے طواف ختم کر لیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میرا نام لے کر پوچھا تم یہ کیا کر رہے تھے۔ تم جو نہی جبل ابوالقیس کے سامنے آتے تھے اکڑ کر چلنے لگتے تھے۔ میں نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! ملیریا نے ہماری ہڈیاں کھوکھلی کر دی ہیں۔ ہم سے سیدھی کمر کر کے چلا نہیں جاتا۔ کافر ہماری حالت دیکھ رہے تھے۔ میں نے خیال کیا کہ اگر میں نے طواف کرتے ہوئے کوئی کمزوری دکھلائی تو کافر خیال کریں گے کہ ملیریا کی وجہ سے مسلمانوں کی طاقت زائل ہو چکی ہے اور اب وہ ہمارا شکار ہیں۔ چنانچہ جب میں اُن کے سامنے سے گزرتا تھا تو اپنی کمر سیدھی کر لیتا تھا اور اکڑ کر چلتا تھا اور جب اس جگہ سے ہٹ جاتا تو کبڑا ہو کر چلنے لگتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اکڑ کر چلنا خدا تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے لیکن اس شخص کا اکڑ کر چلنا خدا تعالیٰ کو بہت ہی پیارا لگا ہے۔9 غرض بعض اوقات انسان اپنی کمزوری کی حالت میں بھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔ اگر تم قربانی کے لحاظ سے کمزور ہو یا مالی لحاظ سے کمزور ہو یا سخاوت کے لحاظ سے کمزور ہو تب بھی یہ دیکھ کر کہ اس وقت اسلام اور احمدیت کو تمہاری قربانی کی ضرورت ہے تم بناوٹ کے طور پر اکڑ کر چلو۔ گوتم دلی طور پر اس قربانی پر ناخوش ہو گے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہے اس لیے تمہارا قبض سے قربانی کرنا جو بظاہر ایک گناہ ہے تمہارے لیے نیکی سے بھی بڑھ کر ثواب کا موجب ہوگا۔ کیونکہ تم اس بات کی بنیاد رکھ رہے ہو کہ جو کام آج تم نے قبض سے کیا ہے آئندہ تم اُسے بشاشت سے کرو گے کیونکہ ہر نیکی دوسری نیکی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ جس کام سے نیکی کی توفیق نہ ملے اُس کے متعلق یہ سمجھ لو کہ وہ در حقیقت نیک کام نہیں تھا۔ اس طرح ہر وہ کام جو بظاہر صحیح معلوم نہ ہو اگر اس سے کسی نیکی کی توفیق مل جائے تو ۔