خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 318

خطبات محمود 318 $1954 اب تئیس سال کے بعد بہار میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا ہے۔میں اب ایک ا علاج بتاتا ہوں لیکن تم نے پھر بھی میری بات نہیں مانتی۔وہ کہنے لگا بتائیے۔میں نے کہا تمہارے علاقہ میں ہیں پچیس فیصدی اچھوت ہیں۔ان کی مالی حالت نہایت گری ہوئی ہے۔یہاں سے سکھ لوگ جاتے ہیں اور وہ اُن کی لڑکیوں کو بیاہ لاتے ہیں۔وہ قوم یا مذہب نہیں دیکھتے۔وہ اپنی لڑکیاں صرف اس لیے بیاہ دیتے ہیں کہ وہ اچھا کھائیں گی ، اچھا پئیں گی۔گورنمنٹ کا اندازہ ہے کہ ہر سال پانچ چھ ہزار لڑکیاں وہاں سے سکھ بیاہ لاتے ہیں۔بہار میں چودہ فیصدی مسلمان ہیں۔اگر ان میں سے نصف مرد ہوں تو سات فیصدی مسلمان مرد ہوئے۔میں کہتا ہوں تم اس تعداد کو اور بھی کم کر لو، تم انہیں پانچ فیصدی سمجھ لو۔اگر تم عیاشی کے لیے نہیں، کسی دنیوی خواہش کے لیے نہیں بلکہ محض خدا تعالیٰ اور اسلام کی خاطر ایک۔زیادہ شادیاں کرو تو تمہاری تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی۔مثلاً اگر تم میں سے ہر مرد تین تین شادیاں کرے تو ایک ہی نسل سے تمہاری آبادی پانچ فیصدی سے پندرہ فیصدی ہو جائے گی۔گویا پہلے اگر تم چودہ فیصدی تھے تو اب تم انتیس فیصدی ہو جاؤ گے۔پھر آگے جو اولاد ہو گی وہ بھی شادی کرے گی۔ہمارے ملک میں بالعموم ایک سال میں ایک فیصدی نسل بڑھتی ہے۔اِس طرح تمہاری نسل چار فیصدی بڑھے گی۔پھر اگر تمہاری اولاد اسی اصول پر عمل کرے تو تم دونسلوں میں پچاس فیصدی ہو جاؤ گے۔لیکن میں نے کہا میں جانتا ہوں کہ تم لوگوں نے میری اس نصیحت پر عمل نہیں کرنا۔اس لیے کہ اس وقت خود تم میں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے محبت نہیں رہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی باتیں جو حکمت سے پُر تھیں تم انہیں محض یورپ کی نقل میں ترک کر رہے ہو۔پچھلی جنگِ عظیم کے بعد میں نے بعض جرمن مصنفین کی کتب پڑھیں۔انہوں نے لکھا تھا کہ یہ مسئلہ اب قابلِ غور ہے کہ لوگ ایک سے زیادہ شادیاں کریں ورنہ ہماری قوم کی نسل ختم ہو جائے گی۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد تو حالات پہلے سے بھی زیادہ نازک ہو و گئے تھے۔غرض تبلیغ اور کثرت ازدواج ایسے اہم مسائل ہیں کہ اگر مسلمان ان پر عمل کرتے