خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 317

$1954 317 خطبات محمود آبادی اور بھی بڑھ جائے گی۔اگر مسلمان اسلام کی اس تعلیم پر عمل کرتے تو آج ان کی اتنی کثرت ہوتی کہ کوئی ان پر ہاتھ نہ ڈال سکتا۔جس زمانہ میں صوبہ بہار میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے اُس وقت قائد اعظم نے چندہ کی اپیل کی اور ہماری جماعت نے اپنی نسبت کے لحاظ سے اس چندہ میں بہت زیادہ حصہ لیا اور قائد اعظم نے جماعت کا شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ جماعت کی طرف سے طبی وفود بھی بھیجے گئے۔اس سے وہاں کے مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مسلمانوں میں سے اگر کوئی فرقہ ان کی رہنمائی کر سکتا ہے تو وہ احمدی ہی ہیں۔چنانچہ اسی سلسلہ میں ایک شخص قادیان آیا اور مجھ سے ملا اور اس نے کہا میں بہار سے آیا ہوں جو مصیبت ہم پر آئی ہے اُس کے متعلق آپ نے اخبارات میں پڑھا ہی ہوگا۔میں نے کہا ہاں پڑھا ہے۔اس نے کہا میں آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں کہ اب ہم کیا کریں؟ میں نے دریافت کیا کیا آپ احمدی ہیں؟ اس نے کہا نہیں۔میں نے کہا پھر آپ میرے پاس کیوں آئے ہیں؟ اس نے کہا میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ ہمیں اعتماد ہے کہ آپ جو رائے بھی ہمیں دیں گے وہ درست ہو گی۔میں نے کہا میں نے اپنے پاس سے تو رائے دینی نہیں۔میں نے تو جو رائے دینی ہے قرآن کریم اور حدیث کی رُو سے دینی ہے۔میں نے پہلے بھی ایک مشورہ دیا تھا لیکن آپ لوگوں نے نہیں مانا۔1923ء میں جب ملکانہ میں ارتداد شروع ہوا تو اُس وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ مسلمانو! تبلیغ کرو تا تمہاری تعداد زیادہ ہو اور تا اسلام کی تعلیم تمام دنیا میں پھیل جائے لیکن آپ لوگوں نے میری بات نہ مانی اور رات دن اسی میں مشغول رہے کہ احمدیوں کو کافر قرار دیا جائے۔بیشک ہماری جماعت تبلیغ کرتی تھی مگر اس کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔دوسرے مسلمانوں نے اس نیک کام میں اس کی مدد نہ کی بلکہ دوسرے مولوی تو یہاں تک کہتے تھے کہ تم بیشک دہر یہ ہو جاؤ، آریہ بن جاؤ لیکن احمدیت میں داخل نہ ہونا۔اگر آپ لوگ اُس وقت ہمارے جی ساتھ تعاون کرتے ، ہم بھی تبلیغ کرتے اور آپ بھی تبلیغ کرتے تو آج تک لاکھوں لوگ اسلامی میں داخل ہو چکے ہوتے اور کروڑوں لوگوں کو اسلام کی خوبیوں کا علم ہو جاتا۔یہ پہلی بات تھی جو میں نے بتائی لیکن آپ لوگوں نے نہ مانی۔