خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iii of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page iii

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان سے فضل عمرفا عمر فاؤنڈیشن کو حضرت مصلح موعود کے خطبات کی پینتیسویں جلد احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِکَ۔ اس جلد میں 1954 ء کے 40 خطبات جمعہ شامل ہیں ۔ 6 - حضرت فضل عمر سلطان البیان کے خطبات علوم و معارف کا انمول خزانہ ہیں اور پیشگوئی کے الہامی الفاظ ” وہ علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا“ پر شاہد ناطق ہیں ۔ حضرت مصلح موعود کا دور خلافت جو کم و بیش 52 سال پر محیط ہے ایک تاریخ ساز دور تھا۔ اس نہایت کامیاب طویل دور میں حضور کے خطبات نے جماعت کی علمی وروحانی ترقی اور تعلیم وتربیت میں نہایت اہم کردارادا کیا۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں :۔ وو ” حضرت مصلح موعود کے خطبات آپ کے قریب بیٹھ کر سنے کا موقع ملتا تھا۔ تمام دنیا کے مسائل کا آپ کے خطبات میں مختلف رنگ میں ذکر آتا چلا جاتا تھا ۔ دین کا بھی ذکر ہوتا اور دنیا کا بھی ۔ پھر ان کے باہمی تعلقات کا ذکر ہوتا تھا ۔ ۔ سیاست جہاں مذہب سے ملتی ہے یا جہاں مذہب سے الگ ہوتی ہے غرضیکہ ان سب مسائل کا ذکر ہوتا تھا۔ چنانچہ قادیان میں یہی جمعہ تھا جس کے نتیجہ میں ہر کس و ناکس ، ہر بڑے چھوٹے اور ہر تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ کی ایک ایسی تربیت ہو رہی تھی جو بنیادی طور پر سب میں قدر مشترک تھی۔ یعنی پڑھا لکھا یا ان پڑھ، امیر یا غریب اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھتا تھا کہ بنیادی طور پر احمدیت کی تعلیم اور احمدیت کی تربیت کے علاوہ دنیا کا شعور بھی حاصل ہو جایا کرتا تھا۔ چنانچہ بہت