خطبات محمود (جلد 35) — Page 259
$1954 259 خطبات محمود ނ بھی ان سے محروم ہو۔لیکن انہیں تو کوئی بتانے والا موجود نہیں اس لیے وہ ان خزانوں۔محروم ہیں لیکن تمہیں بتانے والا موجود ہے اور وہ تمہیں بار بار اس طرف توجہ دلاتا ہے۔اگر تم اس طرف توجہ نہیں کرتے تو تم مجرم ہو۔میں نے کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ کو بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ لڑکوں کی ذہانت کی طرف توجہ کرو لیکن وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔میں دیکھتا ہوں کہ اگر کسی کو چھوٹا سا پیغام بھی دیا جائے تو وہ صحیح طور پر نہیں پہنچایا جا تا۔اگر میں کسی سفر پر جاؤں اور وہاں پرائیویٹ سیکرٹری کو پیغام بھجواؤں کہ ہم بارہ بجے چلیں گے کیونکہ چار بجے ربوہ میں ایک ملاقات ہے تو پیغام پہنچانے والا بارہ بجے پر زور دینا شروع کر دے گا اور کہے گا ہم نے بارہ بجے چلنا ہے۔بارہ بجے چلنا ہے اور جو اصل بات ہو گی کہ ہم نے بارہ بجے کیوں چلنا ہے اُسے نظر انداز کر دے گا۔یا مثلاً نماز ہے، نماز کی مجھے اطلاع کی جاتی ہے تو ی چونکہ بیماری کی وجہ سے میں بعض دفعہ مسجد میں نہیں آ سکتا اس لیے میں ساتھ ہی عذر بھی بیان این کر دیتا ہوں کہ مجھے سر درد ہے یا میرے پاؤں میں تکلیف ہے یا اس وقت بخار ہے اس لیے نہیں آسکتا۔لیکن پیغامبر یہ نہیں بتائے گا کہ میں نماز کے لیے کیوں نہیں آیا۔صرف یہ کہہ دے گا کہ نماز پڑھانے کی اجازت ہے۔حالانکہ نماز میرے لیے بھی ویسی ہی فرض ہے جیسے دوسرے لوگوں کے لیے۔اور میرے جائز عذر کے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بیوقوف لوگ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ گویا میں جان بوجھ کر نماز کے لیے نہیں آتا۔ہم اس دفعہ لاہور گئے تو میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو ہدایت دی کہ ہم نے پانچ بجے یہاں سے روانہ ہونا ہے لیکن روانہ ہم چھ بجے ہوئے اور اس کی وجہ وہی دفتر والوں کی کم عقلی تھی۔ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ اگر کہا جائے کہ ہم نے پانچ بجے چلنا ہے تو کارکن پانچ بجے ہی آئیں گے اور کہیں گے کہ سامان دیں۔حالانکہ ہو سکتا ہے کہ گھر والے پیشاب پاخانہ کے لیے بیت الخلاء گئے ہوئے ہوں یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابھی سامان بندھا ہوا نہ ہو اس لیے ضروری ہوتا ایک گھنٹہ پہلے اطلاع دی جائے۔پانچ بجے روانہ ہونا ہو تو چار بجے اطلاع دی جائے۔مگر جب پانچ بجے اطلاع دی جاتی ہے تو سامان دینے والا یہ سمجھتا ہے کہ ابھی چار بجے ہیں حالانکہ اُس وقت پانچ بج چکے ہوتے ہیں۔تو اگر سامان لینے والا عقل اور ذہانت سے کام لیتے