خطبات محمود (جلد 35) — Page 258
$1954 258 خطبات محمود تک بھی پہنچا دی۔اُس نے کہا یہ درست ہے کہ اگر کوئی شخص کوشش کرتا تو امریکہ دریافت کر لیتا لیکن انہیں ایسا کرنے کا خیال بھی تو آتا۔ایک دن کوئی دعوت تھی جس میں بڑے بڑے رؤساء اور امراء جمع تھے۔کولمبس نے ایک انڈا لیا اور تمام پادریوں سے کہا کہ اسے میز پر کھڑا کر دو۔اس پر سب لوگوں نے کوشش کی لیکن وہ انڈا کھڑا نہ کر سکے۔آخر کولمبس نے ایک سوئی لی اور انڈے کے نیچے چھوئی جس سے کچھ لعاب باہر نکل آیا اور اس کی وجہ سے انڈہ میز پر چپک گیا۔اس پر بعض درباریوں نے کہا کہ یہ کونسی بات ہے یہ کام تو ہم بھی کر سکتے تھے۔کولمبس نے کہا کہ امریکہ کے متعلق بھی آپ لوگ یہی کہتے تھے کہ اگر ہم کوشش کرتے تو دریافت کر لیتے۔وہاں تو آپ کو موقع نہیں ملا تھا، یہاں تو آپ کو موقع مل گیا تھا۔مگر پھر بھی آپ کی عقل نے کام نہ دیا۔غرض جتنے لیڈر، بادشاہ اور جرنیل بنے ہیں وہ ظاہری دولت سے نہیں بنے بلکہ خداداد دولتوں، حافظہ، عقل، فکر اور تدبر سے بنے ہیں۔ہمایوں کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی، بابر کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی، اکبر کے پاس ظاہری دولت نہیں تھی لیکن ان لوگوں نے عقل، فکر اور تدبر کی دولت سے فائدہ اُٹھایا اور عظیم الشان کارنامے سرانجام دیئے۔ان کے مقابلے میں محمد شاہ 1 اور احمد شاہ 2 کے پاس ظاہری دولت تھی لیکن انہوں نے عقل، فکر اور تدبر کی دولت سے فائدہ نہ اٹھایا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ذلیل ہو گئے۔ہمایوں، بابر اور اکبر نے خدا کی دی ہوئی دولت سے کام لیا اور وہ جیت گئے لیکن محمد شاہ اور احمد شاہ نے ان سے کام نہ لیا اور وہ ہار گئے۔پس خدا کی دی ہوئی دولت ظاہری دولت سے ہزاروں گنا زیادہ قیمتی ہے۔میں نے جماعت کو بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی دولت سے کام لے لیکن افسوس ہے کہ ان کے ذہن اس طرف نہیں جاتے۔میں دیکھتا ہوں کہ عقل، فہم، ذکاء اور تدبر کے خزانے پڑے ہیں لیکن جس طرح قرآن کے خزانوں کو لینے والا کوئی نہیں اُسی طرح ان خزانوں کی طرف بھی کسی کی توجہ نہیں۔مگر جس طرح قرآن کریم کے خزانوں کو لینے کی اگر کوئی کوشش کرتا ہے تو اُسے مل جاتے ہیں اسی طرح عقل، تدبر اور فہم و ذکاء کے خزانے بھی مل سکتے ہیں بشرطیکہ کوئی کوشش کرے۔ان خزانوں سے جہاں دوسرے لوگ محروم ہیں وہاں نہ