خطبات محمود (جلد 35) — Page 250
1954ء 250 26 خطبات محمود ذہانت، فکر اور تدبر ہی ایسی حقیقی دولت ہے کہ اگر تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ تو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا کہ خدا تعالیٰ سے اور مانگتے ہوئے شرم آئے گی (فرموده 17 ستمبر 1954ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”دنیا میں انسان کچھ دوستیں کماتا ہے اور کچھ دوستیں انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ جو دولتیں انسان دنیا میں کماتا ہے۔ وہ کسی انسان کے پاس زیادہ ہوتی ہیں کسی کے پاس بہت کم ہوتی ہیں اور کسی کے پاس ہوتی ہی نہیں۔ مثلاً زمین بھی دولت ہے لیکن دنیا کے سب لوگ زمیندار نہیں ۔ کسی کے پاس زمین بہت زیادہ ہے، کسی کے پاس بہت کم زمین ہے اور کسی کے پاس زمین ہے ہی نہیں۔ تجارتیں ہیں، ان میں بھی یہی حال ہے۔ کوئی پھیری کر کے گزارہ کرتا ہے اور کوئی بڑے بڑے کارخانوں کا مالک ہے۔ بنگنگ کا بھی یہی حال ہے۔ مالی لحاظ سے کسی کے پاس پانچ سات روپے ہوتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو