خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 247

$1954 247 خطبات محمود خیانت کرنے والوں اور سودا میں دھوکا کرنے والوں کی تائید میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔اگر مجرم ثابت ہو گیا تو کہہ دیتے ہیں ایسا ہو ہی جاتا ہے اور اگر جرم مشتبہ ہو تو کہہ دیتے ہیں مجرم تو ثابت نہیں ہوتا، کہیں ایسی دلیلوں سے بھی مجرم ثابت ہوتا ہے؟ اگر ان کی بات مان لیا جائے تو مُجرم مٹ نہیں سکتا بلکہ اور زیادہ بڑھے گا۔پھر لوگ مجرم کو بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، اُس کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مُجرم اُس کی اولاد میں بھی چلا جاتا ہے اور دو تین نسلوں میں قوم برباد ہو جاتی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ بہت سے کمزور لوگ ایسے ہیں جو قریب کے نتیجہ کو دیکھتے ہیں۔6 وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں ہمارا دوست ہے۔اگر ہم نے اس کی تائید نہ کی تو وہ کیا خیال کرے گا حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ اب تو وہ اکیلا ہے آئندہ دو تین نسلوں میں وہ ایک سے تین سو تک پہنچ جائے گا۔ایسی صورت میں ہم ایک کی بجائے تین سو کو برباد کر رہے ہیں لیکن لوگ آجل کو نہیں دیکھتے عاجل کو دیکھتے ہیں۔یعنی وہ ایسے فائدہ کو تو دیکھتے ہیں جو جلد کی ہی انہیں حاصل ہو جانے والا ہوتا ہے لیکن اپنے بھیانک انجام کی طرف توجہ نہیں کرتے۔پس مجرموں کی تائید سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ یہ قوم کو تباہ کرنے والی ہے۔باقی غبن اور بددیانتی ایسی چیز نہیں جس پر گھبراہٹ کا اظہار کیا جائے۔دشمن اعتراض کرے گا تو کیا ہو گا۔کیا یہ روحانی امراض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود نہیں تھیں؟ اگر غیر مبائع اعتراض کریں گے تو کیا یہ روحانی امراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں موجود نہیں تھیں؟ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ تم مجرموں کی تائید میں کھڑے ہو جاؤ۔اگر تم مجرموں کی تائید میں کھڑے نہیں ہوتے۔اگر تم بدی کو کچلنے کی پوری کوشش کرتے ہو تو اگر کوئی شخص اعتراض کرتا ہے تو کہہ دو یہ ایک پھوڑا تھا جس کو ہم نے چیرا دے دیا ہے۔لیکن تم لوگ اس قسم کے عیوب کو چھپائے پھرتے ہو۔تم پر اعتراض پڑتا ہے ہم پر اعتراض نہیں پڑتا۔اس سے نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے ہیں، نہ نوح شرمائے ، نہ ابراہیم شرمائے اور نہ آدم شرمائے۔پھر تم کیوں شرماؤ؟ شرمانے سے تمہارا عیب ثابت ہو گا اور وہ مُجرم بڑھے گا کم نہیں ہو گا۔لیکن اگر شرماؤ گے نہیں تو تم اس کے علاج کی کوشش کرو گے اور اگر