خطبات محمود (جلد 35) — Page 246
1954ء 246 خطبات محمود جماعت کے دوست اس قسم کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں، وہ اُن بدیوں کو مٹانے کی کوشش نہیں کرتے لیکن اب چونکہ مجرم ان کے اپنے بھائی بند ہیں ۔ وہ اُن کی سفارش لے کر میرے پاس آتے ہیں۔ حالانکہ مساواتِ اسلامی کے یہ معنے تو نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے مسلمانوں کو یکساں طور پر کھانا کھلایا ہو، ایک سا لباس پہنایا ہو یا ایک سے گھروں میں انہیں رکھا ہو۔ ہاں! آپ نے یہ ضرور کیا ہے کہ ابوبکر ہو یا کوئی ادنی غلام جب قانون کا معاملہ آیا تو آپ نے ان سب سے برابر کا سلوک کیا۔ ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے تھے کہ کوئی شخص دودھ کا ایک پیالہ لایا۔ آپ ہر کام دائیں طرف سے شروع کرتے تھے۔ وہ دن غُربت کے تھے۔ اس لیے جو لوگ تحفے لاتے تھے وہ یہ خیال کرتے تھے کہ شاید آپ بھوکے ہیں۔ لیکن اِن دنوں جو لوگ تحفے لاتے ہیں وہ اس خیال سے تحفے پیش نہیں کرتے کہ شاید جسے یہ تحفہ پیش کیا جا رہا ہے وہ بھوکا ہے بلکہ ان دنوں ایک زائد چیز کے طور پر تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔ اُس مجلس میں حضرت ابوبکر بھی بیٹھے تھے لیکن وہ اتفاقاً آپ کے بائیں طرف تھے۔ آپ نے اُن کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے اور معلوم کیا کہ انہیں فاقہ ہے۔ آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا تھا۔ آپ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اگر تم مجھے اجازت دو تو میں یہ دودھ ابوبکر کو دے دوں؟ اُس لڑکے نے کہا یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے کیوں دریافت فرماتے ہیں؟ کیا شریعت نے میرا کوئی حق مقرر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والے کو ترجیح دی ہے۔ تم دائیں طرف بیٹھے ہو اس لیے تمہارا قانونی حق ہے کہ تمہیں ابوبکر سے پہلے دودھ دیا جائے ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ اُس لڑکے نے کہا اگر قانون نے مجھے حق دیا ہے تو آپ دودھ مجھے دیجیے۔ میں آپ کا تبرک کسی اور کو دینے کے لیے تیار نہیں ۔ 5 اب دیکھو! حضرت ابوبکر آپ کے قریبی تھے لیکن آپ نے یہ دودھ حضرت ابوبکر کو نہیں دیا۔ اُس لڑکے کو دیا۔ پس جہاں تک شرعی حقوق کا سوال تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب مسلمانوں میں مساوات کو قائم کیا ہے لیکن آجکل محض دوستی اور ہمسایہ ہونے کی وجہ سے لوگ غبن اور