خطبات محمود (جلد 35) — Page 233
$1954 233 خطبات محمود تک ہی محدود رہے۔ابھی تک ہمارے ملک میں یہ چیز پیدا نہیں ہوئی کہ پیشے اور ہر دوسروں کی کو سکھائے جائیں۔اگر کوئی ٹرنک بنانا جانتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ یہ فن اب میرے تک ہی محدود رہے، اگر کوئی بُوٹ بنانا جانتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ یہ کام میرے تک ہی محدود رہے لیکن جو سکھاتا ہے اُس کی قدر نہیں ہوتی بلکہ سیکھنے والا اور اُس کے رشتہ دار فوراً شور مچاتے ہیں کہ سیکھنے والے کو تنخواہ نہیں دی جاتی۔یورپ کی کتابیں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جو لوگ کام سیکھتے ہیں وہ سکھانے والے کو بڑی بڑی رقمیں دیتے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں۔یہاں اگر کوئی شخص کسی کے پاس اپنا کی بیٹا کام سیکھنے کے لیے بھیجتا ہے تو وہ میرے پاس اس قسم کی شکایت کرتا ہے کہ میں پندرہ دن سے کام سیکھنے کے لیے اپنے بیٹے کو فلاں کے پاس بھیج رہا ہوں وہ اس کی تنخواہ نہیں دیتا۔حالانکہ جب تک وہ کام سیکھتا ہے وہ سکھانے والے کی چیزیں بگاڑتا ہے اسے فائدہ نہیں پہنچاتا۔ولایت میں چھوٹے چھوٹے پیشے سیکھنے کے لیے دو دو سال تک پریکٹس کرنی پڑتی ہے۔پھر کہیں جا کر تنخواہ کی امید کی جاتی ہے۔لیکن یہاں پندرہ دن کے بعد ہی شکایات آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ہم جب بچے تھے تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول حضرت نانا جان سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنے چھوٹے بیٹے محمد اسحاق کو دین کے لیے وقف کر دو۔وہ جواب دیا کرتے تھے کہ پھر وہ کھائے گا کہاں سے؟ اس پر حضرت خلیفۃ اسیح الاول فرماتے آپ نے اپنے ایک لڑکے کو ڈاکٹر بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا رزق بھی اسے دے دے گا۔میری صحت خراب تھی۔اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب سے کچھ طب پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی پیشہ ہے۔اسی طرح قرآن اور بخاری پڑھ لو۔جب میں نے حضرت خلیفہ اول سے طب اور دینیات پڑھنی شروع کی تو نانا جان مرحوم نے میر محمد اسحاق صاحب کو بھی میرے ساتھ بٹھا دیا۔میری عمر تیرہ چودہ سال کی اور میر صاحب کی عمر مجھ سے دو سال کم تھی۔پہلے دن جب وہ پڑھنے آئے تو نانی اماں کی نے لطیفہ سنایا کہ جب اسحاق سونے لگا تو اُس نے کہا مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ