خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 186

$1954 186 خطبات محمود جو رحم کرنے والے بھی ہوتے ہیں، انصاف کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔لیکن جب انہیں گواہی دینی پڑے اور وہ یہ دیکھیں کہ اس کے نتیجہ میں ان کی اپنی ذات کو یا ان کے کسی رشتہ دار یا دوست کو نقصان پہنچے گا تو وہ اس میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کر دیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا کچھ نہ کچھ باعث آجکل کی اخلاقی حالت بھی ہے۔جن لوگوں کے سامنے واقعات بیان کیے جاتے ہیں وہ سچ کی قیمت کو نہیں سمجھتے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے جتنا سچ بولا ہے مجبوراً بولا ہے ورنہ اور سچ بھی اس کے پیچھے ہے۔مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو تھپڑ مار دیا۔وہ کہتا ہے میں نے تھپڑ اس لیے مارا ہے کہ مجھے اشتعال آ گیا تھا لیکن اب بجائے اس کے کہ حج اس کی قدر کرے اور کہے کہ اس نے سچ بولا ہے وہ کہتا ہے کہ اس نے ضرور پانچ تھپڑ مارے ہوں گے۔صرف ایک تھپڑ کا اس نے اقرار کیا ہے۔غرض جھوٹ دنیا میں اتنا سرایت کر گیا ہے کہ کیا حج اور کیا وکیل اور کیا دوسرے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کوئی شخص سو فیصدی بھی سچ بول سکتا ؟ ہے۔چونکہ اُن کا اپنا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے دوست اور رشتہ دار جھوٹ بولتے ہیں اس لیے اگر ان کے سامنے کوئی سچ بولے تو اس کی قدر نہیں کی جاتی۔وہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ لوگ ضرور بولتے ہیں۔اس لیے اس نے بھی کچھ نہ کچھ جھوٹ ضرور بولا ہو گا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیچ بولنے والا گھبرا جاتا ہے اور گھبرا کر خود بھی جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے۔لیکن مومن کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اُس کے اگر دو پیش کے لوگ کیا کہتے ہیں بلکہ اُسے یہ دیکھنا چاہیے کہ خدا کیا کہتا ہے۔آخر ایمان کے کچھ نہ کچھ معنے تو ہونے چاہیں۔جب ایک شخص ایمان کی وجہ سے ساری دنیا سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے، فساد مول لیتا ہے تو اس کے کچھ معنے تو ہونے چاہیں۔اور ایمان کے کم سے کم معنے یہ نہیں کہ ایک انسان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اُسے خدا دوسری تمام چیزوں سے مقدم ہے۔اب جن چیزوں کو وہ مؤخر قرار دیتا ہے اگر اُن کو مقدم کرنے لگ جائے تو اُس کا ایمان کہاں باقی رہتا ہے۔ایک طرف خدا کہتا ہے کہ سچ بولو اور دوسری طرف اُس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جھوٹ بولو۔چاہے منہ سے کہیں اور چاہیں عمل سے کہیں ، دونوں طریق ہوتے ہیں۔کبھی انسان دوسرے کو کہتا ہے کہ جھوٹ بولو اور کبھی دوسرا جھوٹ بولتا ہے تو اُسے منع نہیں کرتا اور اس طرح جھوٹ کی تائید کرنے والا بن جاتا ہے۔