خطبات محمود (جلد 35) — Page 185
1954ء 185 19 خطبات محمود اس دنیا میں توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ سچ کو اختیار کیا جائے ہماری جماعت کے ہر فرد کو یہ عہد کر لینا چاہیے کہ اس نے بہر حال سچ بولنا ہے (فرمودہ 30 جولائی 1954ء بمقام ناصر آباد سندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالٰی مومنوں کو ایک نصیحت فرماتا ہے کہ وَ كُونُوا مَعَ دو الصدِقِينَ 1 تم راستبازوں کی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔ قرآن کریم میں مَعَ کا لفظ ” سے اور ”میں“ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ 2 یعنی اے خدا! ہمیں ابرار میں شامل کر کے وفات دیجیو۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ابرار مریں تو ہم بھی مر جائیں۔ اسی طرح كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ کے یہ معنے نہیں کہ خود تو سچ نہ بولولیکن بچوں کے ساتھ بیٹھا کرو بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ بچوں کی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔ حقیقت میں توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑا مشکل کام جو محسوس دنیا میں انسان کے سامنے پیش آتا ہے وہ سچائی ہی ہے۔ ہزارہا انسان ایسے دیکھے جاتے ہیں