خطبات محمود (جلد 35) — Page 184
1954ء 184 خطبات محمود ناجائز قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس قسم کی بے شرمی اور بے حیائی کرنے والے کو مسلمان کہلانا تو الگ رہا، انسان کہلاتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیے۔ یہ ویسے ہی لوگ ہیں جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ أُولَئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ 4 یعنی یہ لوگ اپنی بے حیائی اور بے شرمیوں کی وجہ سے جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کتوں میں بھی حیا پائی جاتی ہے اور جس ہاتھ سے وہ روٹی کھاتے ہیں اُس کو نہیں کاٹتے۔ مگر یہ جس ہاتھ سے روٹی کھائیں گے اُسی کو کاٹیں گے اور جس کی وجہ سے انہیں اعزاز حاصل ہوا ہے اُس کو نقصان پہنچائیں گے۔ پس یقیناً ان سے گنا افضل ہے اور یہی قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔ کتوں میں جب جنون کا مادہ پیدا ہو جائے تو اُس وقت وہ زنجیریں تڑوا کر بھاگ جاتے ہیں تا کہ وہ اس جنون کی حالت میں بھی اپنے مالک یا اُس کے بچہ یا اُس کی بیوی یا اُس کے نوکر کو نہ کاٹ لیں ۔ پس جو حرکت ایک گتا اپنے جنون کی حالت میں بھی نہیں کرتا اگر وہی حرکت بعض لوگ عقلِ سلیم رکھتے ہوئے کریں اور پھر یہ خیال کریں کہ ہم اُن کو انسان سمجھیں تو یہ اُن کی بیوقوفی ہو گی اور یا پھر وہ ہم کو بیوقوف سمجھتے ہوں گے کہ ہم اُن کو اس حالت میں بھی انسان سمجھیں“۔ 2206205 : : 1 )الفضل 28 ستمبر 1960ء 2: فَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْتُهُ نِعْمَةً مِنَّا قَالَ إِنَّمَا أوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ )50 :الزمر( 207 :3 : البقرة 4 : الاعراف : 180