خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 182

$1954 182 خطبات محمود ہم سے مشورہ لیا جائے تو ہم یوں کر دیں، ڈوں کر دیں۔مگر فرماتا ہے حقیقت کیا ہوتی ہے؟ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ بدترین دشمن جو تمہارے ہو سکتے ہیں وہ اُن سے بھی زیادہ جھگڑالو اور خطرناک ہوتا ہے۔وہ ہوتا تمہارے ساتھ ہے، وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب کسی مجلس میں بیٹھ جاتا ہے تو ساری مجلس پر چھا جاتا ہے اور اپنی دین داری اور تقوی پر قسمیں کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا دل تو قوم کے لیے گھلا جا رہا ہے۔جب دیکھنے والا اُسے دیکھتا ہے اور سننے والا اُس کی باتیں سنتا ہے تو وہ سمجھتا ہے یہ قطب الاقطاب بیٹھا ہے۔مگر فرماتا ہے دنیا میں تمہارے یہودی بھی دشمن ہیں، عیسائی بھی دشمن ہیں، اور قو میں بھی دشمن ہیں مگر یہ اُن بھی زیادہ خطرناک ہے۔وَ اِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسل اور جب کبھی اسے طاقت مل جاتی ہے، اسے رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، حکام تک اس کی رسائی ہو جاتی ہے، قوم کا لیڈر بن جاتا ہے تو پھر وہ فتنہ اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتا اور حرث اور نسل کو تباہ کرتا ہے حالانکہ اگر وہ واقع میں دین دار ہوتا تو خدا تو فساد نہیں کرتا۔وہ کیوں اس طریق کو اختیار کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے منافی ہے۔یہ ایک پیشگوئی ہے جو مسلمان کے متعلق کی گئی تھی یا یوں کہو کہ یہ ایک تنبیہہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے کی اور بتایا کہ ہمیشہ جب قوم میں رفاہیت آتی ہے، ترقی آتی ہے تو ایک گروہ خراب ہو جاتا ہے۔وہ بھول جاتا ہے اس بات کو کہ ہم کیا تھے اور پھر کیا سے کیا بن گئے۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اسی مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہاری کیا حیثیت تھی، تمہیں تو جو کچھ حاصل ہوا ہے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوا ہے۔تو وہ کہتے ہیں نہیں ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنے علم اور زور سے حاصل کیا ہے۔2 میں دیکھتا ہوں کہ اس قسم کی کیفیت ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں بھی پیدا ہو رہی ہے حالانکہ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں تنبیہہ کر دی تھی اور بتا دیا تھا کہ تمہیں عزت ملے گی اور ملے گی اسلام کی وجہ سے۔مگر تم نے اتنا مغرور ہو جانا ہے کہ حرث اور نسل کو تباہ کرنا شروع کر دینا ہے۔پھر فرماتا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ