خطبات محمود (جلد 35) — Page 181
1954ء 181 18 خطبات محمود خدمت دین کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھو ترقی اور کامیابی کے وقت کبھی یہ امر فراموش نہ کرو کہ تمہیں جو کچھ ملا محض دین کی خدمت کی وجہ سے ملا سے ملا ہے (فرمودہ 23 جولائی 1954ء بمقام ناصر آباد سندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ بقرہ کی ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ وَ إِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ 10 اس کے بعد فرمایا: میں نے جن آیات کی تلاوت کی ہے ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جب وہ بیٹھ کر دنیا کی باتیں کرتے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ واہ واہ !! یہ کتنے عقلمند اور سمجھدار ہیں۔ یوں معلوم ۔ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے سارے علوم پر حاوی ہیں اور ان کی عقل کو کوئی پہنچ نہیں سکتا اور پھر وہ اپنی دین داری کے متعلق اتنا یقین لوگوں کو دلاتے ہیں کہ کہتے ہیں خدا کی قسم! ہمارے دل میں جو نیکیاں بھری ہوئی ہیں ان کو کوئی نہیں جانتا۔