خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 171

خطبات محمود ان کی کوئی پروا نہیں جاسکتی۔ 171 1954ء پس جو لوگ یہاں رہتے ہیں ان میں سے بھی ایک حصہ مجرم ہے کہ اس نے ان باتوں کو چھپایا۔ میں یہ کبھی مان نہیں سکتا کہ اس واقعہ کا ساری جماعت میں سے صرف ایک شخص کو پتا تھا۔ یقیناً اور لوگوں کو بھی علم ہو گا مگر انہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں سستی کی اور سمجھا کہ ان لوگوں سے ہماری صاحب سلامت ہے، ان سے ہمیں بعض دنیوی فوائد بھی پہنچ رہے ہیں پھر ہم کیوں بگاڑ پیدا کریں؟ صرف ایک آدمی کو خدا نے ہمت دے دی اور اس نے مجھے رپورٹ بھجوائی۔ اور جب میں نے تحقیق کی تو پانچ اور گواہ بھی مل گئے ۔ جہاں تک مخالفت کا سوال ہے اس کے لحاظ سے چار کیا، چار ہزار کیا، چار لاکھ کیا بلکہ اگر یہ چار کروڑ بھی ہوں تب بھی یہ کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ یہ سلسلہ نباہ کیا جائے۔ ابھی دنیا میں اس سلسلہ کے ذریعہ اسلام نے پھیلنا ہے۔ جب یہ سلسلہ اسلام کو دنیا میں قائم کر دے گا تو اُس وقت لوگ گھمنڈ میں آ کر بے ایمان ہو جائیں تو اور بات ہے۔ بیشک اب اب بھی بعض لوگوں کے ہاتھ میں روپیہ آ جائے تو وہ گھمنڈ کرنے لگ جاتے ہیں لیکن یہ گھمنڈ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بچہ اپنے کھلونے پر گھمنڈ کرنے لگتا ہے۔ انسان کا اصل گھمنڈ اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ بڑا آدمی بن جاتا ہے اور باقی لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتا ہے۔ پس ہمارے بعض افراد ہیں اگر اب بھی گھمنڈ پایا جاتا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے بچہ کو کھلونا مل جائے تو وہ گھمنڈ کرنے لگ جاتا ہے۔ اصل گھمنڈ اُسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب قوم پھیل جاتی ہے، کثرت سے اُس کے پاس مال آ جاتا ہے، کثرت سے اُس کے پاس عہدے آ جاتے ہیں اور افراد پر اُسے تصرف کا اختیار ہوتا ہے۔ تب فرعون مزاج لوگ اپنے گھمنڈ میں لوگوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو خدا اپنے فرشتوں کو اُن کے مٹانے کا حکم دے دیتا ہے۔ مگر ابھی ہماری جماعت پر وہ وقت نہیں آیا۔ ابھی ہم نے ترقی کرنی ہے۔ اس سلسلہ کو مٹانے کی بہتوں نے کوشش کی اور ابھی کچھ اور کوشش کرنے والے پیدا ہوں گے۔ مگر وہ سارے کے سارے تھک جائیں گے اور اس سلسلہ کو نقصان