خطبات محمود (جلد 35) — Page 166
1954ء 166 خطبات محمود کوئی اپنے وطن سے سو میل دور چلا گیا، کوئی دوسومیل دور چلا گیا اور کوئی چار سو میل دور چلا گیا اور کوئی پانچ سو میل دور چلا گیا۔ بہر حال وہ پہلے صاحب حیثیت تھے یا اچھے زمیندار اور کھاتے پیتے تھے مگر اس وقت وہ بے دست و پا بنا دیئے گئے ۔ بہر حال دوقسم کے لوگ تھے جنہوں نے سندھ میں پناہ لی۔ ایک تو وہ جو نسلی طور پر غریب تھے اور اُن کے گزارے کی پنجاب میں کوئی صورت نہیں تھی۔ دوسرے وہ جو پارٹیشن کے موقع پر غریب بنا دیئے گئے یعنی اُن کے مکان ٹوٹ لیے گئے ، اُن کی جائیدادیں چھین لی گئیں، اُن کے جانور چھین لیے گئے، اُن کی فصلیں چھین لی گئیں، اُن کے روپے چھین لیے گئے اور وہ ایسے ہی ہو گئے جیسے نسلی غریب ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے پنجاب میں پناہ دے دی اور بعض کو سندھ میں پناہ دے دی ۔ اگر وہ پنجاب اور سندھ میں پناہ نہ لیتے تو ان کی حالت ایسی ہی ہوتی جیسے حیدر آباد اور کراچی میں ہزاروں ہزار مہاجرین کی ہے کہ وہ کھلے میدانوں میں جھونپڑیوں میں پڑے ہیں۔ نہ دھوپ سے بچنے کا اُن کے پاس کوئی سامان ہے اور نہ بارش سے بچنے کا اُن کے پاس کوئی ذریعہ ہے۔ بارش آجائے تو کمر کمر تک ان کی جھونپڑیوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے اور بھوک لگے تو کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔ ہر انسان جو ایسے حالات میں سے گزرتا ہے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے اخلاق پہلے اچھے ہو ۔ جائیں اور وہ سمجھ لے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ کتنا ہی انسان اچھا کھانے پینے والا ہو بعض دفعہ ایسے حادثات اُس پر گزرتے ہیں جو اُسے بالکل بے دست و پا بنا دیتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ آدم سے لے کر اب تک ہزاروں دفعہ ایسے حالات پیدا ہوئے ۔ پھر بھی لوگ ان واقعات کو بھول جاتے ہیں۔ جب مصیبت آتی ہے اُس وقت تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اب ہم ایسی توبہ کریں گے کہ کبھی بھول کر بھی دنیا کی محبت میں مبتلا نہیں ہوں گے مگر جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو آہستہ آہستہ پھر ان کے دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن عام لوگوں کے حالات خواہ کچھ بھی ہوں ہماری جماعت کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے خدا تعالیٰ کی ایک نئی آواز سنی ہے، ہم نے اُس کے ایک نئے مصلح کے ہاتھ پر اپنے ایمانوں کی تجدید کی ہے، ہم نے خدا تعالیٰ کے زندہ معجزات دیکھے ہیں، ہم نے اس کے سے