خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 145

$1954 145 خطبات محمود ازواج مطہرات کے لیے تھا لیکن بہر حال اس سے تو کسی کو بھی انکار نہیں کہ ہاتھ کے جوڑ کے اوپر جو کچھ ہے سب پردہ میں شامل ہے۔میں یہ تو امید نہیں کرتا کہ تم ساری عورتوں سے پردہ کروا لو گے۔کچھ بہر حال انکار کریں گی۔اور یہ ایسی لڑائی ہے جو چند دن میں ختم نہیں ہو سکتی۔اس کے لیے تمہیں لمبی جد و جہد اور لمبے وعظ اور لمبی نصیحت سے کام لینا پڑے گا۔میں ملانوں کی طرح تمہیں یہ نہیں کہتا کہ جو عورت پردہ نہیں کرتی تم ڈنڈا اٹھا کر اُس کے سر پر مارو اور اُسے پردہ کرنے پر مجبور کرو۔تمہارا کام صرف سمجھانا ہے۔جب تم سمجھاؤ گے تو ماننے والی عورتیں اور ماننے والے مرد بھی نکل آئیں گے اور نہ ماننے والی عورتیں اور نہ ماننے والے مرد بھی نکل آئیں گے۔تمہارا کام یہ ہونا چاہیے کہ تم ہر ایک کو نصیحت کرتے رہو۔اگر کوئی نہیں مانتا تو لوگوں کو بتاتے رہو کہ صحیح اسلامی تعلیم کیا ہے تا کہ کسی کی خرابی کی وجہ سے جماعت پر الزام نہ آئے اور مسئلہ میں خرابی پیدا نہ ہو۔اگر ہم انہیں سمجھا ئیں گے نہیں تو ہم خدا کے سامنے مجرم ہوں گے اور وہ ہم سے پوچھے گا کہ تم نے ان لوگوں کو کیوں نہ سمجھایا۔اگر ہم ڈنڈا مارنے لگیں اور جبر سے پردہ کروائیں تب بھی ہم خدا کے حضور مجرم ہوں گے کیونکہ اسلام میں جبر جائز نہیں۔اور اگر ہم چُپ کر رہتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے نہیں کہ فلاں کا طریق اسلامی تعلیم کے خلاف ہے یا انہیں صحیح اسلامی تعلیم سے آگاہ نہیں کرتے تب بھی ہم خدا کے سامنے مجرم ہوں گے اور وہ کہے گا کہ تم نے سلسلہ پر کیوں حرف آنے دیا۔تمہارا فرض تھا کہ تم بار بار اسلامی تعلیم کو نمایاں کرتے تا کہ کسی کے فعل کی وجہ سے سلسلہ بدنام نہ ہوتا اور لوگ سمجھتے کہ یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔اگر تم سمجھاتے رہو تو خواہ وہ شخص تمہاری بات نہ مانے کم از کم دوسرے لوگ تم پر اعتراض نہیں کر سکیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ آئندہ نسلیں کے مؤقف سے آگاہ ہو جائیں گی اور وہ صحیح مقام پر کھڑی ہونے کے لیے تیار ہو جائیں گی۔اگر ہم چپ کر رہیں تو آہستہ آہستہ سلسلہ میں ایسا کھن لگ جائے گا جو اس کی جڑوں کو بالکل کھوکھلا کر دے گا۔اگر ہم مارنے لگیں تو اسلام میں ہم ایک ایسی چیز کا دروازہ کھول دیں گے جسے اسلام جائز قرار نہیں دیتا، اگر ہم نصیحت نہیں کریں گے تو لوگ ناواقفیت میں مبتلا رہیں گے۔اور جن لوگوں کے اندر اخلاص اور تقوی تو پایا جاتا ہے صرف اُن کو سمجھانے کی ضرورت اسلام -