خطبات محمود (جلد 35) — Page 144
1954ء 144 خطبات محمود اور جب انہیں کچھ کہو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اسلام کا اصل منشا تو گھونگھٹ ہے حالانکہ نقاب کی گھونگھٹ اور چادر کی گھونگھٹ میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ چادر کی گھونگھٹ منہ سے ایک بالشت کے فاصلہ پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا شیڈ چہرہ پر پڑتا ہے اور وہ دوسرے کو نظر نہیں آ سکتا لیکن نقاب کی گھونگھٹ اول تو باریک کپڑے کی ہوتی ہے اور پھر وہ منہ کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے چہرہ پر اُس کا شیڈ نہیں پڑتا۔ لیکن خواہ تعلیم یافتہ عورتیں ایسا کریں یا غیر تعلیم یافتہ ، جو چیز ناپسندیدہ ہے وہ بہر حال ناپسندیدہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام میں جو اصل پردہ رائج تھا وہ گھونگھٹ تھا اور وہی اصل پردہ ہے۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ گھونگھٹ کا پردہ بہ نسبت اس پردہ کے جو آجکل ہمارے ملک میں رائج ہے زیادہ محفوظ تھا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اول ہمیں گھونگھٹ نکال کر دکھایا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ پردہ کا اصل طریق یہ ہے۔ اگر اس طرح گھونگھٹ نکالا جائے تو لازماً موٹے کپڑے کا چہرہ پر سایہ پڑے گا اور صحیح معنوں میں پردہ قائم رہ سکے گا لیکن موجودہ نقاب کا طریق ایسا ہے جس میں پورا پردہ نہیں ہو سکتا۔ بہر حال ہر ایک کو پورا ں پورا پردہ نہیں ہو۔ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل کرے اور اگر کہیں اس کے عمل میں کمزوری پائی جاتی ہو تو اس کو دور کرے۔ پھر اس سے بھی زیادہ نقص میں نے یہ دیکھا کہ ایک خاتون نے ایسا برقع پہنا ہوا تھا جس کی آستینیں نہیں تھیں اور اس کا بازو ننگا تھا حالانکہ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ران ننگی کری کر دی جائے یا لاتیں ننگی کر دی جائیں۔ چونکہ عورتوں میں اب ایرانی طرز کے برقع کا رواج ہو رہا ہے اور اس کی آستینیں نہیں ہوتیں اس لیے بعض عورتیں وہ برقع پہن کر آ جاتی ہیں حالانکہ ہاتھ کے جوڑ کے اوپر سارے کا سارا حصہ پردہ میں شامل ہے۔ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج مطہرات کے بیان سے تو پتا چلتا ہے کہ ہاتھ اور پیر بھی پردہ میں شامل ہیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب حج کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہلِ بیت کے ساتھ تشریف لے جاتے اور مرد سامنے آ جاتے تو آپ فرماتے اب دستانے اور جرابیں پہن لو۔ سامنے مرد آ رہے ہیں۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حکم صرف