خطبات محمود (جلد 35) — Page 128
$1954 128 خطبات محمود جوانی کا زمانہ نسبتاً جلدی آ جاتا ہے اور جو قو میں خدا تعالیٰ کے منشا کے ماتحت چلنے والی ہوتی ہیں اُن پر جوانی کا زمانہ زیادہ دیر تک رہتا ہے۔پھر اس کے بعد آج تک کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ہر قوم پر بڑھاپا آ جاتا ہے اور وہ اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی کرنے لگ جاتی ہے۔ہماری جماعت ابھی اپنی جوانی کے دور کے قریب زمانہ میں ہے۔ہم اپنے آپ کو نابالغ نہیں کہہ سکتے ، ہم اپنے آپ کو قریب بلوغت کے زمانہ میں بھی نہیں کہہ سکتے اور ہم اپنے زمانہ کو کامل بلوغت کا زمانہ بھی نہیں کہہ سکتے۔قریب بلوغت اور کامل بلوغت کے درمیان جو زمانہ ہوتا ہے وہی ہم پر گزر رہا ہے اور اسی کے مطابق ہماری جماعت کو اپنی ذمہ داریاں کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ وہ عمر ہے کہ اس میں انسان نہ اپنے آپ کو نادان کہہ سکتا ہے اور نہ سمجھنے پورے طور پر اسے تمام کاموں کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔یوں سمجھ لو کہ یہ عمر ایسی ہی ہے جیسے اکیس بائیس سال کے نوجوان کی عمر ہوتی ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس عمر میں بھی ہماری جماعت میں اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے کا ابھی وہ احساس نہیں ہے جو اس کے اندر ہونا ہیے تھا۔مثلاً پہلی چیز تو یہی ہوا کرتی ہے کہ انسان تعلیم حاصل کرتا ہے اور اس عمر تک اپنی تعلیم سے قریباً فارغ ہو جاتا ہے۔لیکن ہماری جماعت میں دینی تعلیم اور دینی تربیت کے لحاظ سے ابھی بہت بڑی کمی پائی جاتی ہے۔اکثر حصہ جماعت کا وہ ہے جو قرآن شریف کو نہیں سمجھتا۔اور اس اکثر میں سے بھی ایک کثیر حصہ ایسا ہے جو ان ذرائع کو بھی جو قرآن کریم کے سمجھنے کے ان کو میسر ہیں صحیح طور پر استعمال کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔مثلاً ہمارا ملک اردو بولتا ہے یا مختلف صوبوں میں گنوار طرز کے جو لوگ ہیں یا غیر تعلیم یافتہ لوگ ہیں یا صرف صوبجاتی زبان جاننے والے ہیں ان میں سے کوئی سندھی بولتا ہے، کوئی بلوچی بولتا ہے، کوئی پشتو بولتا ہے، کوئی بنگالی بولتا ہے۔عربی زبان ہمارے ملک میں بطور زبان کے نہیں بولی جاتی۔بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں کو اتنا بعد عربی زبان سے ہے کہ علماء بھی عربی نہیں بولتے۔اور اگر کبھی انہیں عربی بولنی پڑے تو وہ اتنا ہچکچاتے ہیں کہ دو فقرے بھی وہ اپنی زبان سے نکالیں۔تو کانپتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور لرزتے ہوئے۔جہاں تک ان کے علم کا سوال ہے اگر اس کو دیکھا جائے تو وہ عرب اور مصر کے علماء سے کم نہیں ہوتے، دینی کتب کا انہیں