خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 114

$1954 114 خطبات محمود نہ کر سکتے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں صرف ایک ہی چیز پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی خرابی پیدا ہو، جب جماعت پر کوئی مصیبت اور تکلیف آئے تو چندہ دے دیا۔لوگ جسمانی قربانی والے حصہ کی طرف توجہ نہیں کرتے حالانکہ خدا تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے میں نے مومنوں سے اُن کے مال اور جانیں دونوں چیزیں خرید لی ہیں بِاَنَّ لَهُمُ الجنَّةَ 1 اور اس کے بدلہ میں انہیں جنت دے دی ہے۔پس صرف چندہ دینے سے کیا بنتا ہے؟ صرف چندہ والا تو خدا تعالیٰ سے تمسخر کرتا ہے۔گو چندہ دینے والے بھی ایسے ہیں کہ ان کی میں سے ایک اچھی پرسنٹیج (Percentage) ایسی ہے جو چندہ میں بھی کمزور ہے۔اگر مجموعی طور پر قوم چندہ میں ترقی کر جائے تو ان کمزوروں کی اصلاح ہو سکتی ہے اور ان سے صرف نکر لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مالی قربانیوں کے ساتھ ساتھ جسمانی قربانیاں بھی کی جائیں۔اور جسمانی قربانی صرف چند مبلغ کر رہے ہیں جو بیرونی ممالک میں تبلیغ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔پس تم اپنی ضروریات کو سمجھو۔جماعت کی مخالفت بڑھ چکی ہے۔جماعت کی مخالفت حکام اور ذمہ دار افسروں میں بھی بڑھ چکی ہے اور تمہاری جانیں محفوظ نہیں ہیں۔اگر تم قومی طور پر کوئی تدبیر نہیں کرتے تو تم مر جاؤ گے۔اگر تم بچاؤ کی تدبیر کرتے ہو اور جسمانی قربانی بھی مالی قربانی کی طرح پیش کر دیتے ہو تو تمہاری جانیں محفوظ ہو جائیں گی۔دنیا میں معمولی معمولی جھگڑوں پر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہمیں جیلوں میں جانا پڑے تو ہم چلے جائیں گے۔چنانچہ وہ گروہ در گروہ جیلوں میں چلے جاتے ہیں۔آخر حکومت مجبور ہو کر انہیں چھوڑ دیتی ہے۔گاندھی جی جیتے ہی اس طرح تھے کہ وہ جب کوئی بات منوانا چاہتے تھے تو پندرہ میں ہزار لوگوں کو قید کروا دیتے تھے۔گورنمنٹ کے پاس محدود بجٹ ہوتا ہے۔وہ اس قدر قیدیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔پھر جیلوں کی حفاظت کے لیے پولیس رکھنی پڑتی ہے جس سے اس کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔اگر پچاس لاکھ روپیہ ماہوار بھی جیل خانوں خرچ ہو تو چھ کروڑ سالانہ خرچ بڑھ جاتا ہے اور اُس وقت ملک کی آمد اس قدر نہیں تھی کہ وه