خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 74

$1954 74 خطبات محمود اپنے آپ کو روشناس کراتے رہیں اور کچھ مخلص تو ہیں لیکن یہ احساس اُن کے دلوں سے مِٹ گیا ہے کہ سلسلہ کے ساتھ ان کا اہم تعلق ہے۔وہ اپنی جگہ پر مخلص ہیں مگر اپنے آپ کو آگے لانے اور روشناس کرانے میں کوتاہی کرتے ہیں۔حالانکہ کسی جماعت کے بنیادی لوگوں میں سے ہونا بڑے فخر کی بات ہوتی ہے۔جہاں یہ بات بُری ہوتی ہے کہ انسان جماعت کے متعلق یہ خیال کرے کہ وہ میری چراگاہ ہے اور اس سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے وہاں یہ بات بھی بُری ہوتی ہے کہ کوئی شخص ایک سچی جماعت کے ابتدائی لوگوں میں سے ہو اور پھر وہ اس پر فخر محسوس نہ کرے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اس چیز کی قدر اُس کے دل میں نہیں ورنہ جن لوگوں کے دلوں میں قدر ہوتی ہے جہاں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ کام کیا ہے تو سلسلہ پر احسان نہیں کیا بلکہ سلسلہ نے اُن پر احسان کیا ہے وہاں وہ اپنی اہمیت کو بھی خوب سمجھتے ہیں۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب حضرت معاویہؓ نے دیکھا کہ اُن کی وفات قریب ہے تو وہ مدینہ میں آئے اور اپنے بڑے بیٹے یزید کو بھی اپنے ساتھ لائے۔پھر انہوں نے مسجد میں سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا اے لوگو! میں سمجھتا ہوں کہ جس قسم کے حقوق ہمارے خاندان کو حاصل ہیں اور جس قسم کی قابلیت میرے اس بیٹے میں پائی جاتی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی اس بات کا مستحق ہے کہ آئندہ اسے جانشین مقرر کیا جائے۔اس کے باپ کو جو مقام حاصل ہے، وہ اور کسی کو حاصل نہیں۔اور خود اس کے اندر جو قابلیت پائی جاتی ہے وہ بھی کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔اس لیے یہ دونوں باتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ آئندہ اسے ہی ست کے تخت پر بٹھایا جائے 1۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ اُس وقت میں بھی مسجد کے ایک سرے پر بیٹھا ہوا تھا اور میں نے چڈر کو اپنے کھٹنوں کے اردگرد لپیٹا ہوا تھا (زمینداروں میں جو چودھری ہوتے ہیں اُن میں بھی آجکل یہ طریق رائج ہے۔چونکہ انہیں سہارا لے کر بیٹھنے کی عادت ہوتی ہے اس لیے جب وہ بیٹھتے ہیں تو گھٹنوں کے ارد گرد کپڑا باندھ کر اسے گرہ دے دیتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں بھی اسی طرح بیٹھا ہوا تھا)۔جب معاویہ نے یہ کہا تو میرے دل میں خیال آیا کہ معاویہ کی کیا حیثیت ہے میرے