خطبات محمود (جلد 35) — Page 62
$1954 62 خطبات محمود مجھے کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہیں۔یہ یہی وجہ ہے اُن کے اِس قدر ترقی کر جانے کی۔ان کے بڑے آدمیوں کو دیکھ لو۔ان میں سے اکثر ایک کنگال شخص کی حیثیت سے اُٹھے ہیں۔ہمارے بڑے بھائی میرزا سلطان احمد صاحب مرحوم جو مرزا عزیز احمد صاحب والد تھے ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے کہ وہ یورپ گئے۔انہوں نے بتایا کہ جب میں یورپ گے تو ایک شہر میں چند دوستوں سے مل کر ایک مکان کرایہ پر لیا۔ایک لڑکی اُس مکان والوں کی خدمت کیا کرتی تھی۔ایک دن انہوں نے دیکھا کہ لڑکی رو رہی ہے اور اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی ہیں۔ہم نے سمجھا کہ شاید اس کا کوئی رشتہ دار مر گیا ہے جس کی وجہ سے وہ رو رہی ہے۔چنانچہ ہم نے اُس سے دریافت کیا کہ اُس کے رونے کا کیا سبب ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ اُسے جو تنخواہ ملتی تھی وہ اُس کی جیب سے گر گئی ہے۔ہم جانتے تھے کہ اس لڑکی کے والدین کماتے تھے بیکار نہیں تھے۔چنانچہ ہم نے اُس لڑکی سے کہا تم روتی کیوں ہو؟ تم لاوارث تو نہیں ہو۔تمہارے والدین زندہ موجود ہیں اور وہ کماتے ہیں۔تمہیں رونے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اُس لڑکی نے ہمیں بتایا کہ میرے والدین مجھے ایک دن بھی روٹی نہیں دیتے۔ہمارے ملک میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔ماں باپ خود فاقے کریں گے اپنے بچوں کا پیٹ پالیں گے۔لیکن یورپین ممالک میں بچوں میں حوصلہ پیدا کرنے کے ریق جاری ہے کہ جب بچے جوان ہو جاتے ہیں اور کام کاج کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو وہ اُن سے کہتے ہیں جاؤ! اور کما کر لاؤ۔عام طور پر ماں باپ اپنے بچوں سے کھانے کا خرچ لیتے ہیں لیکن بعض لوگ بچوں سے مکان کا کرایہ تک بھی لیتے ہیں۔وہ اُن سے کہہ دیتے ہیں کہ مکان کے ایک کمرہ میں تمہاری چارپائی بچھی ہے تم اُس جگہ کا کرایہ دو۔لیکن ہمارے ہاں بچہ چھ سات سال کا ہوتا ہے تو پڑھنے کے لیے مدرسہ بھیجا جاتا ہے اور پھر وہ ہر سال فیل ہوتا جاتا ہے۔اور بعض اوقات وہ ہیں ہیں، بچھپیں چھپیں سال کی عمر کا ہو جاتا ہے ادھر ہمارے بچوں کی یہ حالت ہے کہ تمہیں تمہیں سال کے ہو کے ماں باپ کی امداد پر نظر لگی رہتی ہے۔میرے اپنے بچوں کا یہی حال ہے اور مجھے ہمیشہ فکر رہتا ہے کہ اس ہمت کے ساتھ انہوں نے دنیا کی اصلاح کیا کرنی ہے۔