خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 424

$1954 424 خطبات محمود جلسہ کے ایام سے حقیقی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہو تو تم اپنے اوپر یہ فرض عائد کر لو کہ تم اپنے وطن، اپنے علاقہ، اپنے شہر اور اپنے گاؤں کے لوگوں کو سمجھاؤ گے کہ ہم نے یہاں آ کر اپنے یہ فرائض سمجھے ہیں۔ہم یہ فرائض آپ کو بتاتے ہیں اور خود بھی ان پر عمل کریں گے۔بعد میں آنے والے بھی یقیناً اخلاص اور ایمان رکھتے ہیں اور اگر بعد میں آنے والے بھی اخلاص اور ایمان رکھتے ہیں۔تو یہ دو ہزار دوست اگر اس کام میں لگ جائیں تو ان کے لیے یہ مشکل امر نہیں کہ وہ بعد میں آنے والے چالیس پینتالیس ہزار لوگوں کو سمجھا سکیں۔ربوہ کے رہنے والوں اور جلسہ کے لیے آئے ہوئے مہمانوں کو ملا کر ربوہ کی آبادی اس وقت آٹھ دس ہزار کی ہو گی۔اگر چالیس پچاس ہزار لوگ اور آ جائیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک آدمی کے حصہ میں پانچ پانچ آدمی آئیں گے اور اگر یہاں کے عورتوں اور بچوں کو نکال دیا جائے تو پندرہ ہیں آدمی ایک شخص کے حصہ میں آئیں گے۔اور ایک آدمی کا پندرہ بیس آدمیوں تک یہ پیغام اس رنگ میں پہنچا دینا کہ اُن کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو جائے کوئی مشکل کام نہیں۔کیونکہ بعد میں آنے والے بھی انہی نیتوں سے یہاں آئیں گے جن نیتوں سے تم یہاں آئے ہو۔وہ بھی تمہاری طرح دیندار ہیں اور اخلاص رکھتے ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ تم سب صوصیت سے جلسہ کے ایام کو ذکر الہی اور عبادت میں گزارو گے تا خدا تعالیٰ کے فرشتے اتر آئیں اور تمہارا کام جو مشکل ہے آسان ہو جائے۔ہمارا کام قلوب سے تعلق رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہم لوگوں کے قلوب تک نہیں پہنچ سکتے۔جو لوگ بادشاہوں کے پہریدار ہوتے ہیں اُن کے پاس بندوقیں ہوتی ہیں، ریوالور ہوتے ہیں، تلواریں ہوتی ہیں اس لیے اُن کا کام مشکل نہیں ہوتا کیونکہ دشمن کے پاس بھی اس کی قسم کی بندوقیں، ریوالور اور تلوار میں ہوتی ہیں۔لیکن وہ فصیلوں اور ڈیوڑھیوں کے اندر ہوتے ہیں اور دشمن باہر ہوتا ہے۔اس لیے وہ دشمن سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔اُن کے آگے اور پیچھے دیوار میں ہوتی ہیں جو انہیں پناہ دینے والی ہوتی ہیں۔لیکن دشمن ان سہولتوں سے محروم ہوتا ہے۔تمہارے سپرد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈیوڑھی کا پہرہ ہے۔اس ڈیوڑھی کا پہرہ بندوقوں، ریوالوروں اور تلواروں کے ذریعہ نہیں دیا جا سکتا۔جو شخص اس ڈیوڑھی کا پہرہ