خطبات محمود (جلد 35) — Page 397
$1954 397 خطبات محمود اپنے پس جہاں میں ربوہ کے مکینوں سے یہ کہتا ہوں کہ وہ جلسہ پر آنے والوں کے لیے مکانات پیش کریں وہاں میں آنے والوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اکٹھے رہیں اور علیحدہ علیحدہ ٹھہر کر کارکنوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا موجب نہ ہوں۔میں نے مکہ میں دیکھا ہے کہ وہاں حج کے موقع پر ایک ایک کمرہ میں کئی کئی مہمان ٹھہرتے ہیں۔وہاں ہماری طرح مکانات پیش کرنے کا رواج نہیں۔شروع سے ہی اس میں آزادی دی گئی ہے کہ آنے والے جہاں چاہیں ٹھہریں ان کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں کیا جاتا۔چنانچہ جس مکان میں ہم ٹھہرے تھے اُس میں ایک سے زیادہ کمرے تھے۔ہم نے چونکہ زیادہ پیسے خرچ کیے تھے اس لیے ہم تین افراد کے پاس تین کمرے تھے۔اُن کمروں کے نیچے تین کوٹھڑیاں تھیں۔اُن میں سے ہر ایک میں اٹھارہ سے بائیس تک حاجی ٹھہرے ہوئے تھے۔گویا جتنی جگہ میں ہم تین افراد ٹھہرے ہوئے تھے اُسی قدر جگہ میں چون سے پینسٹھ تک افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔اس کی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں اُن دنوں مکانات کا بہت زیادہ کرایہ لیا جاتا ہے اور عام لوگ اتنا کرایہ برداشت نہیں کر سکتے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ وہاں سردی زیادہ نہیں ہوتی اس لیے لوگ سامان کمروں میں رکھ لیتے ہیں اور خود گلیوں میں یا گھلے میدان میں گزارہ کر لیتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض دنوں میں سردی زیادہ بھی ہوتی ہے لیکن یہ عرصہ ہمارے ملک کی طرح کی زیادہ لمبا نہیں ہوتا۔ہاں! ذرا اوپر چلے جائیں یعنی مدینہ منورہ کی طرف نکل جائیں تو سردی کے دن زیادہ ہو جاتے ہیں۔بہر حال ہمارے ہاں مہمانوں کے ٹھہرانے کا خاص طور پر انتظام کیا جاتا ہے۔لیکن وہاں کوئی انتظام نہیں۔جہاں جگہ ملتی ہے حاجی ٹھہر جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے جو ذومعانی ہے۔نہ تو ہم اس کے کوئی خاص معنی کر سکتے ہیں اور نہ ہمیں پتا ہے کہ وہ کب اور کس طرح پورا ہو گا۔اور وہ الہام ہے لنگر اُٹھا دو۔1 اس ” لنگر " کے لفظ سے اگر ” کشتیوں والا لنگر مراد لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ باہر نکل جاؤ اور خدا تعالیٰ کے پیغام کو ہر جگہ پھیلاؤ۔اور اگر لنگر ظاہری لنگر خانہ مراد لیا جائے تو پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آنے والوں کی تعداد اتنی بز گئی ہے کہ اب لنگر خانہ کا انتظام نہیں کیا جا سکتا اس لیے لنگر اُٹھا دو اور لوگوں سے کہو کہ وہ اپنی ای بڑھ