خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 387

$1954 387 خطبات محمود وہ شاید اُن سے مجھے تسلی مل سکے۔اتفاق سے آپ کی کتاب دعوۃ الامیر میرے ہاتھ آئی۔اس کے ابتدا میں اتفاقاً یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اسلام جب شروع ہوا تو اس کے متعلق کوئی شخص یہ امید نہیں کر سکتا تھا کہ جیت سکے لیکن ان مخالف حالات کے باوجود اسلام جیت گیا۔پھر جب اسلام جیت گیا تو کوئی شخص یہ خیال نہیں کر سکتا تھا کہ یہ گرے گا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیشگوئیاں ایسی موجود تھیں کہ اسلام پر ایک وقت ایسا آئے گا جب اس کے پاس مقابلہ کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔چنانچہ وہی ہوا جس کا پیشگوئیوں میں ذکر تھا یعنی اسلام باوجود طاقتور ہونے کے تنزل پا گیا۔اس کے بعد آپ نے اسلام کی ترقی کے متعلق بہت سی پیشگوئیوں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں جو اسلام کے تنزل کے متعلق تھیں تو وہ پیشگوئیاں کیوں پوری نہیں کی ہوں گی جو اسلام کے دوبارہ غلبہ کے متعلق ہیں۔جن سامانوں کو سو سال پیشتر خیال بھی نہیں کیا کی جا سکتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا ذکر آج سے تیرہ سو سال قبل کر دیا، جس مایوسی کا تم آج سے سو سال قبل اندازہ بھی نہیں کر سکتے تھے آج سے تیرہ سو سال قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے ہوشیار کر دیا۔آپ نے فرمایا ایک شخص رات کو مومن سوئے گا صبح کو کافر اُٹھے گا اور دن کو مومن ہو گا لیکن رات کو کافر سوئے گا۔8 خاں فقیر محمد صاحب نے لکھا کہ میں جوں جوں اس کتاب کو پڑھتا جاتا تھا سارا نقشہ میرے سامنے آتا جاتا تھا اور میں نے سمجھ لیا کہ میری مایوسی غلط تھی۔میری بیوی نے کہا اب تم آرام کر لو کہیں پاگل نہ ہو جانا۔مگر میں نے کہا اب میں کتاب ختم کر کے سوؤں گا اور ارادہ کر لیا کہ میں اُس وقت تک سونے کے لیے اپنے بستر پر نہیں جاؤں گا جب تک کہ آپ کو اپنی بیعت کا خط نہ لکھ لوں۔چنانچہ سونے پہلے میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔میری بیعت کو قبول کیا جائے۔سے غرض ضروری ہے کہ ہم اپنے مبلغین کو بڑی تعداد میں لٹریچر مہیا کریں اور اس کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہے۔اور میں نے بتایا ہے کہ ہم مالی لحاظ سے کمزور ہونے کی وجہ۔نئے مبلغ نہیں بھیج سکتے۔اسی طرح پرانے مبلغین کے لیے لائبریری کا انتظام بھی نہیں کر سکتے۔یہ کام ہم نے نئے سرے سے کرنا ہے۔ہر ملک میں کم از کم ایک ایک کتاب کے سوسو نسخے