خطبات محمود (جلد 35) — Page 354
$1954 354 خطبات محمود اگر تم بھی کار خود کو دین کے کاموں پر ترجیح دو اور انہیں کی طرف سے بے تو جہی اختیار کر لو تو دین کا خانہ بالکل خالی رہ جائے گا۔حقیقت یہ ہے اس وقت لاکھوں لاکھ غیر احمدی ایسا ہے کہ وہ اسلام کی خدمت کرنی چاہتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ تم نے یہ بوجھ اُٹھایا ہوا ہے وہ آگے نہیں آتے۔اگر تم آگے نہ آئے ہوتے تو شاید وہ آگے آکر اسلام کی خدمت کا بوجھ اُٹھا لیتے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی غیر احمدی ایسے ہیں جو دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو کام یہ جماعت کر رہی ہے وہ بہت اچھا ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چونکہ جماعت احمد یہ اس بوجھ کو اُٹھا رہی ہے اس لیے انہیں اس بوجھ کے اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔اگر تم نے یہ بوجھ نہ اٹھایا ہوتا تو وہ آگے 1 جاتے اور اس کام کو سرانجام دیتے۔اگر تم بھی اس کام میں سُست پڑ جاتے ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے دوسروں کو بھی اسلام کی خدمت سے روک دیا اور خود بھی غافل ہو گئے۔پس تم اس گناہ اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی حالت کو دور کرنے کی کوشش کرو۔اور اس کو دور کرنے کا سب سے بہتر طریق یہ ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ وہ تمہیں اس موت سے بچالے اور وہ اپنے فضل سے تمہیں زندگی کا پانی پلائے تا تم اپنے فرائض کو ادا کر سکو اور خدمتِ اسلام کے اس بوجھ کو جو تم پر ڈالا گیا ہے صحیح طور پر اُٹھا سکو۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: کچھ جنازے ہیں جو میں نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا لیکن چونکہ باہر بھی دو جنازے پڑے ہیں اس لیے نماز کے معاً بعد میں باہر چلا جاؤں گا اور وہاں نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔دوست میرے ساتھ شامل ہو جائیں۔جو جنازے میں پڑھاؤں گا وہ یہ ہیں:۔1 - سید عبدالحکیم صاحب سونگڑہ ( بھارت) اپنی جماعت کے امیر تھے اور علاقہ میں بااثر تھے۔2۔منشی عنایت اللہ خان صاحب پنجیڑی آزاد کشمیر 21 / اکتوبر کو قتل کر دیئے گئے ہیں۔گاؤں میں ایک ہی احمدی گھر تھا اس لیے نماز جنازہ صرف غیر احمدی رشتہ داروں نے ادا کی۔3۔بابو عطاء محمد صاحب ڈنگہ ضلع گجرات۔4 نومبر کو فوت ہو گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود