خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 348

$1954 348 خطبات محمود اعلان کیا جائے گا۔ایک دفعہ اسی مسئلہ پر جماعت میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔اس لیے مناسب نہیں کہ میں بغیر مشورہ کوئی فیصلہ کر دوں۔اس لیے سیالکوٹ والوں کو بھی اور دوسری جماعتوں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک شخص کے خاص حالات کی وجہ سے جو جماعت نے مجھے لکھے اور بعض ذاتی معلومات کی بناء پر میں نے اُس کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے ورنہ عام فتوی نہیں۔بعض واقعات کی وجہ سے میری نیک ظنی نے تقاضا کیا کہ اُس کے اندرونے کی نسبت بھی قرار دوں کہ وہ احمدی تھا۔ورنہ بدگو اور مکذب کے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتوای موجود ہے کہ اُس کا جنازہ نہ پڑھا جائے لیکن جو مکفر اور مکڈ نہیں اس کے متعلق غور کیا جائے گا اور علماء کی بحث کے بعد جماعتی فتوای شائع کیا جائے گا۔اس سے پہلے میری اس تحریر کو اس بارہ میں دلیل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں یہ ہے کہ جماعت کو کارکنوں کی ضرورت ہے جو اس وقت مل نہیں رہے۔جو لوگ پنشنر ہیں وہ اپنی عمر کا اکثر حصہ دنیا کمانے میں صرف کر دیتے ہیں اور پھر کوشش کرتے ہیں کہ اپنی آخری عمر میں بھی روپیہ کمانے کے ثواب سے محروم نہ رہیں۔پس ایک طرف پنشنروں میں دین کی خدمت کا احساس نہیں اور دوسری طرف جو نوجوان ہیں وہ اول تو اپنی زندگی وقف نہیں کرتے اور جو زندگی وقف کرتے ہیں وہ مختلف بہانے بنا کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وقف اب ایک ہے تجارت کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔ماں باپ آتے ہیں اور کہتے ہیں میرا فلاں بیٹا وقف۔اور اس وقت تعلیم حاصل کر رہا ہے۔کچھ روپیہ دے دیا جائے تو وہ اپنی تعلیم مکمل کر لے۔لیکن جب تعلیم مکمل ہو جاتی ہے تو وہ وقف سے بھاگ جاتا ہے۔یہ لوگ اول درجہ کے بے ایمان، مجرم اور خائن ہیں۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں انہیں چھوڑوں گا نہیں۔باقی نو جوانوں میں بھی ایسی رو چل گئی ہے کہ وہ دین کی خدمت سے بھاگتے ہیں۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اس معاملہ میں سختی سے کام لیا جائے۔یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے دینی جنگوں سے بھاگنے الے۔ہماری جنگ تلوار کی جنگ نہیں بلکہ تبلیغ کی جنگ ہے۔پس جو شخص دین کی خدمت سے بھاگتا ہے اُس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بدر، احد یا دوسری جنگوں سے بھاگنے والے شخص کی