خطبات محمود (جلد 35) — Page 334
$1954 334 خطبات محمود ނ عورت بہت اثر رکھنے والی تھی۔چنانچہ اس نے پریس کے نمائندوں اور اپنے دوستوں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔بعض کی اس نے تنخواہیں مقرر کر دیں اور اس طرح کشمیر کے راجہ کے حق میں پرو پیگنڈا کا انتظام کیا۔وہ اس قسم کا انتظام کر ہی رہی تھی کہ کسی مسلمان نے جس کے ہاتھ۔وہ تار گزری تھی تار ٹائپ کر کے مجھے بھیج دی اور لکھا کہ یہ تار دیوان چمن لال کی طرف فلاں عورت کو گئی ہے مگر اس نے اپنا نام نہ لکھا۔ہم سمجھ گئے کہ تار کی نقل بھیجنے والا تار کے محکمہ میں کام کرتا ہے اور یہ تار اس کے ہاتھ سے گزری ہے۔میں نے اُس وقت وہ نقل ولایت میں اپنے نمائندوں کو بھجوائی اور اسے ہدایت کی کہ وہ اس بارہ میں فوراً کارروائی کرے۔چنانچہ تار ملتے ہی ہمارے نمائندہ نے اُس عورت کو بلایا اور کہا مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔جب وہ عورت آئی تو ہمارے نمائندہ نے اُسے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے دیوان چمن لال نے تمہیں یہاں ریاست کے پروپیگنڈا کے لیے مقرر کیا ہے اور تمہارے نام یہ تار آیا ہے۔میں یہ تار اخبارات میں چھپوانے لگا ہوں اور یہ لکھنے لگا ہوں کہ تم فلاں شخص کے لیے اُجرت پر کام کر رہی ہو اور اخبارات میں جو فلاں فلاں مضمون شائع ہوا ہے۔وہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔انگلستان میں یہ سخت عیب سمجھا جاتا ہے کہ کوئی اخباری نمائندہ کسی سے پیسے لے کر کام کرے۔جب اُس نے یہ بات سنی تو وہ سخت گھبرائی اور معذرت کرتے ہوئے کہنے لگی کہ میں نے تو پہلے ہی انکار کر دیا تھا مگر خیر آب میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ اس سلسلہ میں کچھ نہیں لکھوں گی۔چنانچہ اُس نے اس کام کے کرنے سے انکار کر دیا۔اس طرح یہ پروپیگنڈا ہوا۔66 پھر ایک غیر احمدی دوست نے مجھے لکھا۔مجھے یاد نہیں کہ اس نے مجھے اپنا نام بھی لکھا تھا یا نہیں کہ ایک شخص جو سر“ کا خطاب رکھتا ہے اور ایک ریاست کا وزیر اور راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا ممبر ہے راجہ نے اسے اس بات کے لیے مقرر کیا کہ وہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے ممبروں میں ریاست کے لیے پروپیگنڈا کرے۔میں نے چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو لکھا کہ آپ وہاں یہ چیز پیش کریں کہ فلاں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا ممبر ، مہاراجہ کشمیر کے حق میں پرو پیگنڈا کر رہا ہے۔کیا گورنمنٹ نے یہاں لوگوں کو اس لیے بلایا ہے کہ وہ دوسری جماعتوں