خطبات محمود (جلد 35) — Page 312
$1954 312 خطبات محمود معلوم ہو گیا ہے کہ ہماری دعائیں کس طرح قبول ہوتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ خطرات ایک وقت تک ٹل گئے ہیں اور آئندہ کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔وہی جانتا ہے کہ آئندہ کیا تو ہو گا۔انسان تو حاضر کو دیکھتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ باوجود اس کے کہ ہم میں کوئی طاقت نہیں، ہماری کوئی حیثیت نہیں ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں حاضر کو بدل سکتا ہے تو اگر ہم دعائیں جاری ہے رکھیں تو وہ مستقبل کو بھی اچھا بنا سکتا ہے۔حاضر کو بدلنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے لیکن مستقبل کے لنے میں چونکہ کچھ وقت مل جاتا ہے اس لیے یہ کام بظاہر آسان ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آخری ایام میں دستور ساز اسمبلی ایک کھیل بن کر رہ گئی تھی اور بعض قوانین تو اتنی جلدی جلدی پاس کیے گئے تھے کہ ان کا دستور ساز اسمبلی کے اکثر ممبروں اور گورنمنٹ کے افسروں کو بھی پتا نہیں لگا۔مثلاً دستور ساز اسمبلی نے ایک فیصلہ یہ کیا تھا کہ گورنر جنرل کے سب خصوصی اختیارات سلب کر لینے چاہیں ، اسے کوئی اختیار حاصل نہ ہو، وہ محض رسمی طور پر گورنر جنرل کی مسٹراے کے بروہی جو قانون کے وزیر تھے اور اسمبلی کے انچارج تھے انہوں نے اعلان کیا کہ مجھے بھی پتا نہیں لگا کہ یہ قانون کب پاس کر لیا گیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ آخری ایام میں بعض فیصلے افراتفری میں کیے گئے تھے تا کہ نئی اسمبلی کے آنے سے پہلے پہلے ایسے تغیرات پیدا کر دیئے جائیں کہ دوسری پارٹی سے مقابلہ کیا جا سکے۔اب موجودہ حالت میں ایک تغیر تو یہ نظر آتا ہے کہ مرکزی کابینہ میں ایسے آدمی آگے آگئے ہیں جو اگر چہ لیگ کے ممبر تو نہیں لیکن کسی نہ کسی رنگ میں انہوں نے ملک کی خدمت کی ہے۔مثلاً آج ہی حکومت کا یہ اعلان اخبارات میں چھپا ہے کہ سرحد کے سُرخ پوش لیڈر ڈاکٹر خان صاحب کو وزارت میں لے لیا گیا ہے۔کسی گزشتہ جلسہ سالانہ کی ایک تقریر میں میں نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ میں پشاور کے سفر میں ڈاکٹر خان صاحب سے ملا اور ایک گھنٹہ تک ان سے گفتگو کی۔اور تقریر میں میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ اس گفتگو کا جو اثر مجھ پر ہوا وہ یہی تھا کہ آپ اسلام اور وطن کے خیر خواہ ہیں۔دوسرے مسلمان جو چاہیں ان کے متعلق خیال کریں مگر جہاں تک ان کا سوال ہے، وہ ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔سرکاری اعلان میں یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں نئی کابینہ میں لے لیا گیا ہے اور شاید ابھی دوسری پارٹیوں کے نمائند