خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 298

خطبات محمود 298 $1954 اسی طرح جب جماعت احمدیہ کو ترقی ملے گی تو تم اُس وقت یہ کہو گے کہ نائی، دھوبی اور موچی آگے آگئے ہیں۔اُس وقت ہر شخص تمہیں یہی کہے گا بلکہ میرا یہ خطبہ نکال کر تمہارے آگے رکھے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دین کی گاڑی کو اُس وقت دھگا دیا جب تم لوگ اس سے لا پروا ہو گئے تھے۔اب ان کا حق ہے کہ وہ آگے آئیں۔ہماری واقفین کی لسٹ کو بھی دیکھا جائے تو اس میں بڑے بڑے لوگوں اور اُن کے بچوں کے نام لکھے ہیں لیکن جو لوگ کام کر رہے ہیں اُن میں بڑے بڑے لوگوں کے بچے شامل نہیں۔جب کسی بڑے شخص کے بیچے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرا فلاں بچہ واقف زندگی ہے۔لیکن جب وہ پاس ہو جاتا ہے تو وقف میں آنے کا نام بھی نہیں لیتا۔ان کی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے وہ یہ لکھتا تھا کہ میرا فلاں لڑکا وقف ہے، میرے دولڑکے وقف ہیں، میرے تین لڑکے وقف ہیں آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا کرے۔لیکن تعلیم سے فارغ ہو جانے کے بعد ان کی بو بھی نہیں آتی۔وہ سمجھتے ہیں کہ اب دعا کا وقت گزر گیا ہے۔پھر اگر بعد میں کوئی لڑکا بیمار ہو جاتا ہے تو وہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس کی نیت دوبارہ حاضر ہونے کی تھی ملازمت کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ کچھ تجربہ حاصل ہو جائے۔دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے صحت عطا فرمائے تا کہ وہ دین کی خدمات بجالا سکے لیکن تندرست ہو جانے کے بعد وہ حاضر ہونے کا نام بھی نہیں لیتا۔گویا ان لوگوں نے وقف کو تجارت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔غرباء نے اسے وظیفے لینے کا ذریعہ بنایا ہے اور امراء نے دعا کا ذریعہ بنایا ہے اور کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ دین کی گاڑی چلے گی کیسے؟ اب یہ حالت ہے کہ ناظر بڑھے ہو گئے ہیں اور بعض کے تو آب حواس بھی ایسے نہیں کہ وہ اب زیادہ دیر تک سلسلہ کا کام چلا سکیں۔لیکن ایسے آدمی سلسلہ کے پاس موجود نہیں جو ان کی جگہ کام کر سکیں۔آخر یہ تو ہو نہیں سکتا کہ نئے آدمیوں کو ان کی جگہوں پر لگا دیا جائے۔چند سال تک انہیں بہر حال کام کا تجربہ حاصل کرنا پڑے گا۔پھر وہ ان جگہوں پر کام کر سکیں گے۔اس وقت بعض ناظر قبروں میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور اُن کے حواس بھی بجا نہیں۔نئے آدمی ہمارے پاس تیار نہیں اور سلسلہ کا کام نہایت خطرناک حالات میں سے گزر رہا ہے۔