خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 235

$1954 235 خطبات محمود ایک دفعہ ایک غریب آدمی تھا۔اُس نے کچھ روپیہ کھا لیا۔اس کے پاس کچھ زمین تھی۔جب و پکڑا گیا تو اُس نے کہا میری غلطی ہے۔اس وقت روپیہ تو نہیں زمین میرے پاس ہے وہی لے لیں اور اپنا روپیہ پورا کر لیں۔پس اگر جماعت میں اس قسم کی غلطی کرنے والے ملتے بھی ہیں تو وہ بھی مطالبہ پر رقم کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں اس قسم کی متعدد مثالیں پائی جاتی ہے اور دو تین مثالوں کو تو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جب یہاں۔نظارت نے یہ نوٹس دیا کہ سال ختم ہو رہا ہے تم روپیہ جلدی بھیجو تو سیکرٹری مال نے روپیہ اپنے پاس سے بھیج دیا اور خود چندہ بعد میں جمع کیا۔غرض ہم میں قربانی کرنے والے دوسروں زیادہ ہیں۔اس لیے ہم باوجود کمزور ہونے کے اچھا نمونہ دکھا سکتے ہیں۔کراچی کی جماعت کو دیکھ لو وہ چھوٹی سی جماعت ہے لیکن انہوں نے مشرقی پاکستان کے مصیبت زدوں کے لیے پانچ ہزار روپیہ کی رقم دی ہے۔اس سے پہلے وہ کئی اور اخراجات بھی برداشت کر چکے ہیں اور کئی اخراجات ابھی برداشت کر رہے ہیں۔پھر بھی انہوں نے قربانی سے دریغ نہیں کیا۔پس جماعت کے تمام دوستوں کو چاہے وہ زمیندار ہوں، پیشہ ور ہوں یا ملازم ہوں میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس موقع پر چندہ جمع کر کے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ - 3 حُبُّ الوطنی بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔اگر تم ان مصائب میں حصہ نہیں لیتے تو جب لڑائی کا سوال پیش آئے گا تو تم کیا کرو گے؟ پارٹیشن کے موقع پر جو حالات بگڑے تھے وہ صرف سکھوں کی وجہ سے ہی نہیں تھے بلکہ بعض جگہوں پر مسلمانوں کی وجہ سے بھی حالات بگڑ گئے تھے۔مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ ہم سے قسمیں لی گئی تھیں کہ تم نے فلاں جگہ کے مسلمانوں کی مدد نہیں کرنی۔چنانچہ مسلمانوں کے گاؤں لٹ رہے تھے لیکن دوسرے مسلمانوں نے انہیں بچایا نہیں۔پھر خود ان پر حملہ کر کے سکھوں نے انہیں تباہ کر دیا۔پس پیشتر اس کے کہ دشمن تمہیں پارہ پارہ کر کے مارے تم اپنے اندر حب الوطنی کا احساس پیدا کرو۔ہمارے علاقہ کی مختلف اقوام کے افراد میں اپنی قومیت کا احساس پایا جاتا ہے۔