خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 228

$1954 228 خطبات محمود یہودی ہیں، وہ بھول جائیں گے کہ وہ جرمن ہیں، وہ بھول جائیں گے کہ وہ انگریز ہیں۔غیر کے مقابلہ میں وہ سب ایک قوم ہوں گے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فرموده ای قاعدہ کے یہ معنے ہوں گے کہ گروپ کے ہر فرد کو دوسرے کی تکلیف کا احساس کرنا چاہیے۔اسی طرح پاکستان ہے۔پاکستان مسلمانوں کی متحدہ کوشش سے بنا ہے۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان فرمودہ اصل کے ماتحت پاکستان میں بسنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔وہ ایک گروپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔جب ان میں سے کسی ایک حصہ پر تکلیف آئے تو باقی سب کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ تکلیف ہم پر آئی ہے۔اگر اس کے کسی حصہ میں قحط نمودار ہوتا ہے تو باقی سب حصوں کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ یہ قحط ہم پر ہی آیا ہے، اگر سیلاب ایک حصہ کو تباہ کر دیتا ہے تو باقی حصوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ سیلاب نے ہم سب کو برباد کر دیا ہے۔اگر ملک کے ایک حصہ کی تکلیف کو دوسرا حصہ اپنی تکلیف تصور نہیں کرتا تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جسم سے کٹ گیا ہے۔اس وقت ایسٹ پاکستان میں جو تباہی آئی ہے اور سیلاب کے رنگ میں جو عذاب اس علاقہ پر آیا ہے اُس کی کیفیت اخبارات اور رسائل میں چھپتی رہتی ہے لیکن ہمیں مبلغین کی طرف سے بھی رپورٹ آتی رہتی ہے۔اس وقت تک جو رپورٹیں مبلغین کی طرف سے آئی ہیں انہیں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ہمارے مبلغین نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ کے باشندوں نے جو اچھوت تھے ہمیں فون کیا کہ کوئی شخص ہماری حالت نہیں پوچھتا۔آپ کم سے کم کوئی آدمی ہمارے پاس بھیجوا دیں تا یہ دیکھ کر کہ ملک میں ہمارے ہمدرد بھی موجود و پانی ہیں ہماری ہمت بندھ جائے۔چنانچہ مبلغین کا وفد وہاں پہنچا۔انہوں نے دیکھا کہ ہر جگہ ہی پانی کھڑا ہے۔گاؤں میں جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔گاؤں کا کوئی شخص ایک کشتی لے آیا اور انہیں اس میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا۔گاؤں میں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک گھر بھی ایسا نہیں جہاں کوئی شخص چار پائی تختہ یا زمین پر سو سکے۔سب جگہیں پانی سے بھری پڑی ہیں اور لوگوں نے پانی میں بانس گاڑ کر اُن پر گھاس پھونس ڈال رکھا ہے۔ان بانسوں کی بنی ہوئی چھتوں پر ہی سوتے ہیں اور انہی پر کھانا پکاتے ہیں۔یہ کیفیت