خطبات محمود (جلد 35) — Page 183
$1954 183 خطبات محمود فَبُهُ جَهَنَّمُ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ - 3 جب اُسے کہا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔تم دو کوڑی کی کے بھی آدمی نہیں تھے۔تمہیں تو جو کچھ ملا ہے سلسلہ کی وجہ سے ملا ہے۔تمہارا تو فرض ہے کہ سلسلہ کے اموال اور اُس کی جائیدادوں کی حفاظت کرو تو وہ کہتا ہے میری ہتک کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہاں ممکن ہے تم لوگوں کو فریب دے لولیکن آخر جہنم تمہارا ٹھکانہ ہے۔وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ اور وہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔جہنم بیشک اگلے جہان میں ہے لیکن ایک جہنم ایسے انسان کے لیے اس جہان میں پیدا کر دیا جاتا ہے۔جب شریف انسان مقابلہ میں کھڑا ہو جائے تو اُسے ایسا جواب مل جاتا ہے کہ یہی دنیا اُس کے لیے جہنم بن جاتی ہے۔دیکھو! ایک غیر احمدی اگر لکھتا ہے کہ مجھے اپنے علم اور اپنی طاقت کے زور سے فلاں عزت ملی ہے تو اور بات ہے لیکن ایک احمدی جو بالکل کم حیثیت تھا اگر اُسے سلسلہ کی وجہ سے مال مل گیا ہے، اگر سلسلہ کی وجہ سے اسے عزت حاصل ہو گئی ہے، اگر سلسلہ کی وجہ سے اسے کوئی پوزیشن حاصل ہو گئی ہے، اگر سلسلہ کی وجہ سے وہ کارخانوں کا مالک بن گیا ہے تو خدا تو اُسے کہے گا کہ تیرے کپڑے کا ہر تار اور تیرے گوشت کی ہر بوٹی اور تیرے آٹے کا ہر ذرہ احمدیت کا ممنونِ احسان تھا۔پھر تُو نے کیوں غرور کیا اور تکبر سے اپنا سر اونچا کیا؟ بڑا غرور یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سلسلہ کی خدمت کی ہے اور خدمت یہ ہوتی ہے کہ دس یا پندرہ روپیہ چندہ دیا ہوتا ہے حالانکہ میں بھی ہوں، ہزاروں روپیہ چندہ دیتا ہوں اور سارا دن مفت کام کرتا ہوں۔اگر دس یا پندرہ روپے دینے کی وجہ سے اُن کا حق ہے کہ وہ سلسلہ کے اموال سے ناجائز فائدہ اُٹھا ئیں تو پھر میرا تو یہ حق ہونا چاہیے کہ میں سلسلہ کی ساری جائیدادوں پر قبضہ کر لوں کیونکہ میں نے پچاس سال تک مفت کام کیا ہے اور لاکھوں روپیہ چندوں میں دے چکا ہوں لیکن یہ بیہودہ بات ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے نیکی کی توفیق دی۔اگر اُس کا فضل شاملِ حال نہ ہوتا تو میں اتنی خدمت نہ کر سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں نیکی ہوتی ہے وہ جس قدر خدمت سرانجام دیتے ہیں اُسی قدر اُن خدمات کو خدا تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہیں۔لیکن ایک اور آدمی دس ہزارواں حصہ بھی چندہ نہیں دیتا اور وہ چند روپوں کا احسان جتا کر سلسلہ کے اموال پر