خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 157

$1954 157 خطبات محمود کہیں گے کہ دیکھتے نہیں! ہم پر ہفتہ کے دن کیسی تباہی آئی تھی !! اسی طرح ہو سکتا ہے کہ کسی کو جمعرات کے دن کوئی حادثہ پیش آ جائے تو وہ جمعرات کو اور کسی کو جمعہ کے دن کوئی حادثہ پیش آجائے تو وہ جمعہ کو منحوس کہنے لگ جائے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ سارے لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے اور کہیں گے کہ ہم کیا کریں گے ہمارا تو نحوست پیچھا نہیں چھوڑتی اور دوسری قومیں ترقی کر جائیں گی۔اگر کوئی کہے کہ دنوں میں اگر کوئی خاص برکت نہیں ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری قوم کے لیے جمعرات کے سفر میں برکت رکھی ہے۔1 تو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں ایک وجہ موجود ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ جمعہ کے دن تمام لوگ شہر میں رہیں اور اکٹھے ہو کر نماز ادا کریں تا کہ جب لوگ اکٹھے ہوں تو وہ ایک دوسرے کی مشکلات کا علم حاصل کریں، اہم امور میں ایک دوسرے سے مشورہ لیں ، اپنی ترقی کی تدابیر سوچیں اور یہ چیزیں اتنی اہم ہیں کہ اِن کو ترک کر کے کسی کا سفر پر چلے جانا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہوسکتا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم کہیں سفر پر جانا چاہو تو جمعرات کو جاؤ تا کہ جمعہ کسی شہر میں ادا کر سکو۔اور یہ چیز ایسی ہے جس سے کوئی وہم پیدا نہیں ہوتا۔محض جمعہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے کہ اگر چھوٹا سفر ہے تو جمعرات کو کر لیا کرو اور اگر لمبا سفر ہے تو جمعہ کی نماز پڑھ کر کسی اور دن چلے جاؤ۔پس اس حدیث میں کسی دن کی برکت پر زور نہیں دیا گیا بلکہ جمعہ کی نماز پر زور دیا گیا ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جمعہ کی نماز میں سارے شہر کا اکٹھا ہونا ضروری ہوتا ہے چاہے وہ دس لاکھ کا شہر ہو یا ہیں لاکھ کا شہر ہو یا تمیں لاکھ کا شہر ہو۔اگر کوئی ایسا شہر ہے جس کے افراد ایک مقام پر اکٹھے نہیں ہو سکتے تو اسے مختلف حصوں میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔لیکن مسئلہ یہی ہو گا کہ ہر حلقہ کے تمام لوگ اپنے اپنے حلقہ میں نماز جمعہ کے لیے اکٹھے ہوں۔اور اس میں بہت سے دینی اور دنیوی فوائد ہیں۔جب لوگ اکٹھے ہوں گے تو لازماً وہ ایک دوسرے کی مشکلات کا علم حاصل کریں گے، ایک دوسرے سے مشورے کریں گے، ایک دوسرے کی ترقی کی