خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 122

$1954 122 خطبات محمود جو ہدایت یافتہ نہیں برابر ہو سکتے ہیں؟4 کیا جنت کے رہنے والے اور جہنم کے رہنے والے ہو سکتے ہیں؟ جب یہ دونوں چیزیں برابر نہیں ہو سکتیں تو تمہارے اعمال اور تمہاری عادات و اطوار میں اور دوسرے لوگوں کے اعمال اور ان کی عادات و اطوار میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہونا چاہیے۔ہماری جماعت نے خدا تعالیٰ کے احسان اور اس کے فضل دیکھے ہیں اور جب اس نے خدا تعالیٰ کے احسانات اور اُس کے فضلوں کا مشاہدہ کیا ہے تو مشکلات کے وقت اس میں یہ احساس تو ہونا چاہیے کہ اس نے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ہے اور اس سے دعائیں کرنی ہیں۔خدا تعالیٰ کی شان وراء الوراء ہے لیکن مصیبت کے وقت جب کوئی شخص فریادی بن کر اس کے پاس جاتا ہے تو اس کے نزدیک اس کی شان ہی اور ہوتی ہے۔جب وہ شخص جس کا فریاد رس کوئی نہیں، شور مچاتا ہے تو جس کا فریاد رس موجود ہے وہ کیوں شور نہ کرے؟ پس بجائے اس کے کہ دوست مشکلات کے وقت گھبرائیں یا کسی تشویش میں مبتلا ہوں انہیں اس بات کی عادت ڈالنی چاہیے کہ ادھر کوئی مصیبت آئی اور اُدھر انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ہم نے کئی ایسے آدمی دیکھتے ہیں جن میں دعا کرنے کا مادہ ہوتا ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ وہ اکثر خدا تعالیٰ سے اپنی مطلوبہ چیز لے ہی لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں مفتی فضل الرحمان صاحب کے بچے مر جایا کرتے تھے۔بعد میں ان کی اولاد چلی ہے۔حضرت خلیفہ اسی الاول کی لڑکی اُن سے بیاہی ہوئی تھی۔جب بھی اُن کا بچہ بیمار ہوتا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جاتیں اور دعا کی درخواست کرتیں لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ بچہ فوت ہو جاتا۔جب ایک دو دفعہ ایسا ہوا تو آپ نے اُن سے فرمایا دیکھو! جو چیز ٹوٹ جاتی ہے اُس کی مرمت کی جاتی ہے۔تمہارے بچے بھی مرمت کے لیے خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں۔اس کے بعد جب بچے فوت ہو جاتے تو وہ کہتیں کوئی بات نہیں وہ مرمت کے لیے خدا تعالیٰ کے پاس گئے ہیں۔پھر ایسا ہوا کہ اُن کی اولاد زندہ رہنی شروع ہوئی بلکہ دوسری بیوی سے بھی اولاد ہوئی اور زندہ رہی اور اب تو شاید مفتی صاحب کی اولاد دو درجن کے قریب ہے۔اس رنگ میں اگر یقین پیدا ہو جائے تو کوئی تشویش نہیں ہوتی۔اس قسم کے یقین کی موجودگی میں اگر کوئی مار کھا بھی لے تو وہ محبت والی مار ہوگی۔