خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 105

$1954 105 11 خطبات محمود تقدیر کا جو حصہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے اختیار میں رکھا ہے اس میں کوشش اور تدبیر کے بغیر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کرتا جو چیزیں خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہیں وہ تم نے ہی کرنی ہیں ان کے متعلق محض تو کل کرنا غلطی ہے (فرمودہ 28 مئی 1954ء بمقام ربوہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے دو حصے کیے ہوئے ہیں۔تقدیر کا ایک حصہ اس نے اپنے بندوں کے سپرد کیا ہوا ہے۔اگر وہ بندوں کے سپرد نہ کرتا تو بندوں کے پاس اس کے نفاذ کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔دوسرا حصہ اس نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔اس دوسرے حصہ میں۔کچھ تو اس شکل میں ہے کہ دائمی طور پر اُس کا وہ قانون چلتا ہے اور کچھ اس طور پر ہے کہ اس کا قانون وقتی طور پر چلتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ