خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 101

$1954 101 خطبات محمود واقف نہیں تو وہ میری نقل کرنا شروع کر دے گا اور ٹھوکر کھائے گا۔اس لیے میں جب بھی بیٹھ کر نماز پڑھاتا ہوں تو دوستوں کے سامنے اپنی معذوری بیان کر دیتا ہوں۔پس میں ربوہ والوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں ورنہ میرے لیے اس کے سوا اور کوئی طریق باقی نہیں رہے گا کہ میں ان میں سے بعض کو ربوہ یا جماعت سے نکالنا شروع کر دوں۔تم یہ مت سمجھو کہ میرا ایسا کرنا جماعت کی کمزوری کا موجب ہو گا۔یہ جماعت کی کمزوری کا موجب نہیں بلکہ اس کی تقویت کا موجب ہو گا۔میں نے پریذیڈنٹوں کو اس سے قبل بھی بہت دفعہ توجہ دلائی ہے لیکن شاید وہ خود بھی ان بُرائیوں میں مبتلا ہیں اس لیے وہ اس کے ازالہ کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے۔اب میں تمہیں آخری نوٹس دیتا ہوں۔میرے پاس شکایات پہنچی ہیں کہ ناظر صاحب امور عامہ نے بعض مجرموں کو جو سزائیں دی ہیں وہ ہنسی کے قابل ہیں۔وہ لوگ ربوہ سے جماعت سے نکال دینے کے قابل تھے لیکن ناظر صاحب امور عامہ نے انہیں دو دو روپیہ جرمانہ کیا۔اگر وہ شکایات درست ہیں تو ناظر اور نائب ناظر امور عامہ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُن کو کسی نوٹس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سلسلہ کے ملازم ہیں۔دوتین دن میں میں تحقیقات کروں گا اور اگر یہ الزام ثابت ہو گیا تو میں انہیں سزا دوں گا۔ہم مخالفین سے یہ اعتراض سنتے آ رہے ہیں کہ ہم نے سیاسی طور پر ایک مرکز بنا لیا ہے۔اگر چہ ہم نے کوئی سیاسی مرکز نہیں بنایا ہم نے اس مقام کو محض اس لیے بنایا ہے تا اشاعت دین میں حصہ لینے والے لوگ یہاں جمع ہوں لیکن بہر حال دشمن یہ اعتراض کر رہا ہے کہ ہم نے سیاسی مرکز بنایا ہے اور جس غرض سے ہم نے یہ جگہ بنائی ہے اگر وہ بھی پوری نہ ہوتی تو ہمارا الگ شہر بسانے کا کیا فائدہ؟ ہم نے ساری دنیا کو اپنا دشمن بنا لیا اور دوسرے لوگوں کو اعتراض کرنے کا موقع دیا۔حالانکہ ہمارا مرکز بنانے کا مقصد وہ نہیں جو دوسرے لوگ بیان کرتے ہیں۔ہم تو ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جو حکومت کی اطاعت سکھاتا ہے۔اگر آج پاکستان پر کوئی مصیبت آجائے تو ہمارے عقیدہ کے لحاظ سے اس کی خاطر سب سے پہلے قربانی کرنے والے احمدی ہوں گے۔لیکن باوجود اس عقیدہ کے ہم پر سیاسی مرکز بنانے کا