خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 96

$1954 96 خطبات محمود کہ اس شخص نے میرے اعزاز اور احترام کی وجہ سے اپنی چادر بچھا دی ہے۔لیکن وہ چادر پر بیٹھے ہی تھے کہ چادر کے مالک نے کہا میری چادر کو پلید نہ کرو۔تم مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عدالت میں آئے ہو تمہیں کوئی حق حاصل نہیں کہ میری چادر پر بیٹھو۔گویا مولوی محمد حسین بٹالوی کا تو یہ خیال تھا کہ مرزا صاحب کو مقام ماموریت پر میں نے ہی کھڑا کیا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے کہا تم میرے مامور کو ذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہو میں تمہیں سفید چادر ؟ بھی نہیں بیٹھنے دوں گا۔پس انسان کی دی ہوئی عزت اور اس کی تعریفیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔اصل عزت کی وہی ہے جو خدا تعالیٰ دے۔اور اصل تعریف وہی ہے جو خدا تعالیٰ کرے۔مومن کو اُس کی طرف جھکنا چاہیے اور اُس سے مانگنا چاہیے۔جو چیز خدا تعالیٰ دے گا وہ اُسے واپس نہیں لے گا۔لیکن انسان ممکن ہے ایک عرصہ کے بعد تمہارا دشمن ہو جائے اور تمہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے۔پس تم خدا تعالیٰ سے مانگو اور اُس چیز کی خواہش نہ کرو جو چھینی جا سکتی ہے۔اس کے ساتھ کچھ عرصہ کے لیے تمہیں دنیا میں عزت حاصل ہو سکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں۔پس تم خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو۔دعاؤں میں بڑی تاثیر ہوتی ہے۔تم خدا تعالیٰ۔اُس کا فضل طلب کرو کیونکہ جب خدا تعالیٰ کا فضل آئے گا تو کوئی انسان تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو تم موجودہ تعداد سے لاکھ گنا بھی بڑھ جاؤ تو تمہاری کوئی عزت نہیں۔مسلمانوں کو دیکھ لو اس وقت ان کی تعداد ساٹھ کروڑ کے قریب ہے لیکن اس وقت جو ان کی حیثیت ہے وہ یورپ کی چھوٹی چھوٹی طاقتوں سے بھی کم ہے۔لیکن ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمانوں کی تعداد چالیسواں کی حصہ تھی۔یعنی بنوامیہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی تعداد پچاس ساٹھ لاکھ تھی یا بنو عباس کے زمانہ میں جب ان کی تعداد دو تین کروڑ تھی اُس وقت ساری دنیا نے ان کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔پس تعداد اپنی ذات میں ایسی چیز نہیں کہ اس پر فخر کیا جائے۔جن لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے وہ تھوڑے بھی ہوں تو بہت ہوتے ہیں اور جن لوگوں کے ساتھ ނ