خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 87

$1953 87 خطبات محمود پڑھی۔لیکن بادشاہت ان کو بھی ملی۔روز ویلٹ ،رومین اور آئزن ہاور نے بھی بسم اللہ نہیں پڑھی لیکن بادشاہت ان کو بھی ملی۔وہ بسم اللہ کو جانتے بھی نہیں اور نہ بسم اللہ کی ان کے دلوں میں کوئی قدر ہے۔پس جب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھنے کے بغیر برکت نہیں ملتی تو اس کا یہ مطلب تھا کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہیں ملتا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف کی اسی کو ملتا ہے جو ہرا ہم کام سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیتا ہے۔اب ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی کی طرف سے ملنے والی چیز زیادہ برکت والی ہوتی ہے یا بندوں سے ملنے والی چیز زیادہ برکت والی ہوتی ہے۔انسانی تدابیر سے حاصل کی ہوئی بادشاہت بند بھی ہوسکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بادشاہت بند نہیں ہوسکتی۔یزید بھی ایک بادشاہ تھا اُسے کتنا غرور تھا، اُسے طاقت کا کتنا دعوی تھا۔اس نے رسول کریم ﷺ کے خاندان کو تباہ کیا۔اس نے آپ کی اولا د کو قتل کیا اور اس کی گردن نیچے نہیں ہوتی تھی۔وہ سمجھتا تھا کہ میرے سامنے کوئی نہیں بول سکتا۔حضرت ابو بکر بھی بادشاہ ہوئے لیکن ان میں عجز تھا ، انکسار تھا۔آپ فرماتے تھے مجھے خدا تعالیٰ نے لوگوں کی خدمت کے لیے مقرر کیا ہے۔اور خدمت کے لیے جتنی مہلت مجھے مل جائے اُس کا احسان ہے۔لیکن یز ید کہتا تھا مجھے میرے باپ سے بادشاہت ملی ہے۔میں جس کو چاہوں ماردوں اور جس کو چاہوں زندہ رکھوں۔بظاہر یزیدا اپنی بادشاہت میں حضرت ابو بکڑ سے بڑھا ہوا تھا۔وہ کہتا تھا میں خاندانی بادشاہ ہوں۔کس کی طاقت کی ہے کہ میرے سامنے بولے۔لیکن حضرت ابو بکر فرماتے تھے کہ میں اس قابل کہاں تھا کہ بادشاہ بن جاتا۔مجھے جو کچھ دیا ہے خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔میں اپنے زور سے بادشاہ نہیں بن سکتا تھا۔میں ہر ایک کا خادم ہوں۔میں غریب کا بھی خادم ہوں اور امیر کا بھی خادم ہوں۔اگر مجھ سے کوئی غلطی ہے سرزد ہو تو مجھ سے اس کا ابھی بدلہ لے لو۔قیامت کے دن مجھے خراب نہ کرنا۔ایک سننے والا کہتا ہوگا یہ کیا ہے۔اسے تو ایک نمبر دار کی سی حیثیت بھی حاصل نہیں۔لیکن وہ یزید کی بات سنتا ہوگا تو کہتا ہوگا یہ باتیں ہیں جو قیصر و کسریٰ والی ہیں۔لیکن جب حضرت ابو بکر فوت ہو گئے تو اُن کے بیٹے ، اُن کے پوتے اور پڑپوتے پھر پڑپوتوں کے بیٹے اور پھر آگے وہ نسل جس میں پوتا اور پڑپوتا کا سوال ہی باقی نہیں رہتا وہ برابر ابوبکر سے اپنے رشتہ پر فخر کرتے تھے۔پھر اُن کو بھی جانے دو۔وہ لوگ جو