خطبات محمود (جلد 34) — Page 35
$ 1953 35 35 خطبات محمود مزید اصرار کرنے کی جرات نہ کی اور سمجھ لیا کہ یہ بستی اب تباہ ہوکر رہے گی۔تو اگر حقیقی نیک آدمی موجود ہوں تو چاہے وہ کتنے ہی تھوڑے ہوں وہ دعا کے لیے کھڑے ہو جائیں تو ان کی دُعا آفات کو زائل کر دیتی ہے۔بد قسمتی باقی لوگوں کی ہوتی ہے کہ وہ اس دعا میں شامل نہیں ہوتے۔عذاب سے بچ جانا اور مقام کو حاصل کر لینا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ضروری نہیں ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص عذاب سے بچ جائے تو وہ مقام بھی حاصل کرلے۔اللہ تعالیٰ بسا اوقات خفگی کی وجہ سے بھی انسان کو نعمتیں عطا کر دیتا ہے۔مجھے یاد ہے ہمارے پاس ایک گائے تھی اُس نے ایک بچہ دیا۔ہمارے ہاں رواج ہوتا ہے کہ جانور دوسرے شخص کو دے دیا جاتا ہے کہ وہ اُس کی پرورش کرے۔جس بڑا ہو جائے تو اس کی قیمت میں سے ایک حصہ اسے دے دیا جاتا ہے۔مثلاً جانو را گر چھوٹا ہو تو ادھیارہ ر لیاجاتاہے اوراگر بڑا ہوتو یہ طے کر لیاجاتا ہے کہ پرورش کے بدلہ میں اسے تیسرا حصہ یا تین چوتھائی دے دیا جائے گا۔بہر حال ہم نے وہ گائے کا بچہ ایک شخص کو پرورش کے لیے دے دیا۔مجھے یاد نہیں رہا تھا کہ ہم نے اُس سے کونسا حصہ طے کیا تھا۔آیا ہم نے تیسرا حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا یا نصف دینے کا وعدہ کیا تھا۔بہر حال جب وہ بچھڑا بڑا ہوا۔تو اُس شخص کی عورت میرے پاس آئی اور اُس نے معاہدہ کے خلاف بات کی۔یعنی اگر تیسرے حصہ کا وعدہ تھا تو اُس نے کہا معاہدہ نصف کا تھا یا نصف دینے کا معاہدہ کی تھا تو اس نے دو تہائی کہا۔بہر حال جو فیصلہ ہوا تھا اُس نے اسے بڑھا کر کہا۔میں نے کہا دیکھو ! تم نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور وعدہ کے خلاف حصہ بتایا ہے۔تمہارے خیال میں اگر میں اس حصہ سے کم دوں جو تم بیان کرتی ہو تو میں کمینہ بنتا ہوں۔پس میں تمہیں اس کی یہ سزا دیتا ہوں کہ میں یہ گائے تمہیں ہی دے دیتا ہوں۔چونکہ سزا کا کوئی اور طریق نہ تھا اس لیے میں نے اُسے یہی سزا دے دی کہ میں گائے ہی تمہیں دے دیتا ہوں۔پس سزا کا ایک طریق یہ بھی ہوتا ہے کہ جتنی چیز کوئی مانگتا ہے بعض دفعہ منگی کے طور پر اُس سے ی زیادہ اُسے دے دی جاتی ہے۔پس معافی کا مل جانایا ناراضگی کے طور پر کسی نعمت کا زائد طور پر مل جانا اپنی ذات میں اچھا نہیں ہوتا۔اپنی ذات میں یہ چیز اچھی ہوتی ہے کہ رضا مل جائے۔اگر رضا نہیں ملتی تو نے اس کا کیا فائدہ؟ جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں نے اُس عورت سے کہا تم گائے ہی لے لو۔میں تم سے کوئی حصہ نہیں لیتا۔تم نے ایک چھوٹی سی چیز کولالچ کا رنگ دے دیا ہے۔