خطبات محمود (جلد 34) — Page 379
$1953 379 خطبات محمود بہم پہنچائی جاتی ہیں۔اس لیے اس قسم کا فقرہ منہ سے نکالنا درست نہیں۔جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہاں تو ہمیں کوئی پوچھتا نہیں ہم واپس چلے جاتے ہیں۔میں اُن سے کہوں گا کہ اُن کا یہاں آنا ہی مناسب نہیں تھا۔انہوں نے یہاں آکر غلطی کی ہے۔اور بجائے ثواب کے گناہ حاصل کیا ہے۔پھر میں ذمہ وار کارکنوں سے یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو خوش اسلوبی اور بشاشت سے ادا کریں۔اور چاہے کسی کو شکایت ہو یا نہ ہو وہ خوشی سے ان باتوں کو برداشت کریں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کے لیے یہ ثواب کے دن مقرر کیے ہیں۔باہر والے اس موقع پر یہاں آتے ہیں ، سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں، کام کاج چھوڑ کر آتے ہیں، یہاں وہ کئی تکالیف برداشت کرتے ہیں، راتوں کو زمین پر سوتے ہیں ، غذا بھی بعض اوقات ان کو مناسب حال نہیں ملتی۔وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور اس طرح ثواب کماتے ہیں۔یہاں کے رہنے والوں کو سفر کی صعوبتیں برداشت نہیں کرنی پڑتیں۔وہ اپنے کام کاج چھوڑ کر یہاں نہیں آتے۔ہاں وہ باہر سے آنے والوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور اس طرح ثواب حاصل کرتے ہیں۔اگر باہر کی والے اس موقع پر مرکز میں نہ آتے تو وہ ثواب سے محروم رہتے۔اور اگر یہاں رہنے والے مہمان نوازی کا کام نہ کرتے تو سارا ثواب باہر والے ہی لے جاتے۔اللہ تعالیٰ نے دونوں کے لیے ثواب کے مواقع بہم پہنچائے ہیں۔باہر والوں کے لیے بھی اور یہاں رہنے والوں کے لیے بھی۔اس لیے دونوں کو خوش ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے ان کا خانہ خالی نہیں چھوڑا اور دونوں کے لیے اپنے قرب کی راہیں کھول دی ہیں۔“ (الفضل 6 دسمبر 1961ء)