خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 28

$1953 888 28 خطبات محمود وفات پا جانے والوں کی وجہ سے وعدوں میں جو کمی آگئی ہے وہ پوری ہو جائے ، اسی لیے دفتر دوم والوں کے کو بھی خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہیے اور اپنے وعدوں کو اس سال کم از کم دواڑھائی لاکھ تک پہنچا دینا چاہیے۔یا درکھو کہ اس وقت اشاعت دین کا کام تم ہی کر رہے ہو۔تمہارے سوا اور کوئی نہیں کر رہا۔دنیا میں صرف تم ہی ایک جماعت ہو جو خدا تعالیٰ کے دین کے جھنڈے کو اٹھائے ہوئے ہو۔تمہیں شکوہ کی ہوگا کہ تم ہی وہ لوگ ہو جنہیں خارج از اسلام کہا جاتا ہے ہم ہی وہ لوگ ہو جن کے خلاف مولوی اکٹھے ہو کر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔لیکن یہ شکوہ کی بات نہیں اس سے تو تمہارے کام کی عظمت اور شان اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ایک شخص دین کی اس لیے خدمت کرتا ہے کہ اُسے اس کا بدلہ ملے گا۔ایک شخص دین کی خدمت کرتا ہے اور اُسے اُس کا بدلہ نہیں ملتا۔اور ایک شخص دین کی خدمت کرتا ہے اور اُسے نہ صرف اس کا بدلہ نہیں ملتا بلکہ الٹا اسے جھاڑیں پڑتی ہیں، اُسے بُرا بھلا کہا جاتا ہے ، گالیاں دی جاتی ہیں۔تم دیکھ لو ان تینوں میں سے کس کا درجہ بڑا ہوتا ہے؟ آیا اُس شخص کا درجہ بڑا ہوتا ہے جو دین کی خدمت کرتا ہے اور اُسے اُس کا معاوضہ ملتا ہے؟ یا اُس شخص کا درجہ بڑا ہوتا ہے جو دین کی خدمت کرتا ہے اور اُسے اُس کا معاوضہ نہیں ملتا؟ یا اُس شخص کا درجہ بڑا ہوتا جو دین کی خدمت کرتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اُسے اُس کا بدلہ ہی نہیں ملتا بلکہ الٹا اُسے جھاڑیں پڑتی ہیں، اُسے گالیاں دی جاتی ہیں؟ صاف بات ہے کہ جو شخص ان کی حالات میں خدمت دین کرتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اُسے اُس خدمت کا معاوضہ نہیں ملتا بلکہ اسے الٹا جھاڑیں پڑتی ہیں۔اُسے گالیاں دی جاتی ہیں اُس کا درجہ ایمان اُس شخص سے بلند ہے جو خدمت دین کرتا ہے اور اسے اُس کا معاوضہ ملتا ہے یا خدمت کرتا ہے اور اُسے اُس کا معاوضہ نہیں ملتا لیکن جھاڑیں بھی نہیں پڑتیں۔در حقیقت محبت کامل کا معیا رہی یہی ہوتا ہے۔اگر میں غلطی نہیں کرتا تو غالباً ابراہیم ادھم تھے جن سے دوزخ اور جنت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا مجھے جنت اور دوزخ سے کیا غرض ہے۔خدا تعالیٰ جہاں مجھے رکھنا پسند کرے گا میں رہوں گا۔اگر وہ مجھے جنت میں رکھنا پسند کرے گا تو میں جنت کو پسند کروں گا اور اگر وہ مجھے دوزخ میں رکھنا پسند کرے گا تو میں دوزخ ہی کو پسند کروں گا۔پس جو شخص قطع نظر کسی معاوضہ کے دین کی خدمت کرتا ہے بلکہ نہ صرف قطع نظر کسی معاوضہ کے دین کی خدمت کرتا ہے بلکہ اسے معلوم ہے کہ اُسے بجائے کسی معاوضہ کے الٹا جھاڑیں پڑیں گی اور اُسے