خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 349

$1953 349 خطبات محمود اتنے سال ہم قربانی کر لیں۔اب اسے ہمیشہ کے لیے کر دیا گیا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے لیے اتنی قربانی کرنا در حقیقت اب بوجھ ہے کہ اسے ہر شخص نہیں اٹھا سکتا۔ہوسکتا ہے کہ بعض کے لوگ بغیر اولاد کے ہوں یا وہ اپنے اخراجات بہت کفایت سے کرتے ہوں۔اُن کو مستنی سمجھا جاسکتا ہے۔وہ اگر چاہیں تو اپنی قربانی کو اس معیار پر رکھیں لیکن باقی لوگوں کے لیے جنہوں نے پہلے سالوں میں بہت زیادہ قربانی کی میری تجویز یہ ہے کہ وہ اپنے معیار قربانی کو گرا دیں۔مگر یکدم گرانے سے چونکہ بجٹ کو نقصان پہنچے گا اس لیے وہ یکدم نہ گرائیں بلکہ ہر سال دس دس فی صدی کمی کرتے جائیں۔میرے نزدیک موجودہ آمدنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص اپنی ایک ماہ کی آمد کا پچاس فی صدی دے دیتا ہے تو یہ ایک اچھی قربانی ہے کیونکہ اس کے ساتھ دوسرے چندے بھی ہیں جو فرضا دینے پڑتے ہیں۔پس اگر کوئی شخص اپنی ایک ماہ کی آمد کا نصف دے دیتا ہے مثلاً اُس کی سو روپیہ ماہوار آمد ہے تو پچاس روپیہ وعدہ لکھوا دے تو سمجھا جائے گا کہ اُس نے اچھی قربانی کی ہے۔اور اگر وہ ایک ماہ کی پوری آمد یعنی سو کی سوروپے ہی بطور وعد ہ لکھوا دے تو ہم سمجھیں گے کہ اس نے تکلیف اٹھا کر قربانی کی ہے۔لیکن جنہوں نے پانچ پانچ یا چھ چھ ماہ کی آمد نیاں چندہ میں لکھوادی ہیں وہ اگر اپنی قربانی کو آئندہ بھی اس معیار پر رکھیں تو وہ گھر کے نظام کو بگاڑنے والے ہوں گے۔سوائے چند افراد کے کہ جن کے اخراجات محدود ہیں۔عام حالات میں یہ اجازت ہے بلکہ میں یہ پسند کروں گا کہ ایسے لوگ اس سال دس فیصدی کے حساب سے اپنا چندہ کم کرتے جائیں۔یہاں تک کہ چندہ ایک ماہ کی آمد کے برابر ہو جائے تا اتنے عرصے میں دور دوم کو ترقی حاصل ہو جائے اور چندہ کی مقدار بڑھ جائے۔پس ہر احمدی مرد اور ہر احمدی بالغ عورت کا فرض ہے کہ اس تحریک میں شامل ہو بلکہ بچوں میں بھی تحریک کی جائے اور رسمی طور پر انہیں اپنے ساتھ شامل کیا جائے۔مثلاً اپنے وعدہ کے ساتھ اُن کی طرف سے بھی کچھ حصہ ڈال دیں۔چاہے ایک پیسہ ہو ، دو پیسے ہوں یا ایک آنہ ہو۔اس سے ان کے دلوں میں تحریک ہو گی۔بلکہ بجائے بچہ کی طرف سے خود وعدہ لکھوانے کے اُسے کہو کہ وہ خود وعدہ لکھوائے اِس سے اُس کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ میں چندہ دے رہا ہوں۔بعض لوگ بچوں کی طرف سے چندہ لکھوا دیتے ہیں لیکن انہیں بتاتے نہیں اس سے پورا