خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 337

$1953 337 خطبات محمود ہوئی ہو۔آمدنوں کا اندازہ خیالی باتوں پر نہیں رکھنا چاہیے۔یہ عقل کی بات نہیں کہ ایک سال بعض اتفاقی واقعات کی بناء پر قیمت چڑھ جائے تو آئندہ سال اپنی آمدن کا اندازہ اُس اتفاقی قیمت پر رکھ لیا جائے۔جو لوگ خیالی قیمتوں پر اپنی آمد کا اندازہ لگاتے ہیں وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔مثلاً پچھلے سے پچھلے سال کپاس کی قیمت 40 روپے من ہو گئی تھی اور اُس سے پہلے اس کی قیمت 55 روپے من تک پہنچ گئی تھی۔اب جو شخص اپنی آمد کا اندازہ اس قیمت کے حساب سے لگائے گاوہ حماقت کرے گا۔کپاس کی اصل قیمت سات آٹھ سے دس روپے فی من ہوتی ہے۔55 روپے نہیں ہوتی۔ان قیمتوں کا مل جانا تو ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو بازار سے گزرتے ہوئے روپوں کی تحصیلی مل جائے۔پس ہمیں اپنے اخراجات کا اندازہ لگاتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ کپاس کی کی قیمت سات آٹھ یا حد سے حد دس روپے فی من ہے اور گندم کی قیمت پانچ چھ روپے فی من ہے۔اگر لوگ ایسا کریں گے تو ان کے حالات درست ہو جائیں گے اور وہ اپنی آمد کو بڑھانے کی ضرورت محسوس کریں گے۔یہی فصل یورپ اور امریکہ میں بھی ہوتی ہے۔لیکن وہ لوگ ہم سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں جب جاپان میں پاکستانی وفد گیا تو اگر چہ اس میں کسی حد تک مبالغہ بھی تھا لیکن اُس وفد کی رپورٹ تھی کہ وہاں فی خاندان تین ایکڑ زمین ہوتی ہے۔لیکن اُس کی آمد 6000 روپے سالانہ وتی ہے۔یہ قیمت ہمارے ملک کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔یہ آمد ہم سے ہیں گنے زیادہ ہے۔ہمارے ملک میں جس شخص کے پاس ایک مربع زمین ہوتی ہے اور اس کو پانی وغیرہ خوب مالتا ہے تو اُسے خوشحال سمجھا جاتا ہے۔ایک مربع کو تین ایکڑ زمین سے ایک اور آٹھ کی نسبت ہے۔جاپان کی آمد میں اور کی ہمارے ملک کی آمد میں ہیں گنے کا فرق ہے۔یہ فرق اسی وجہ سے ہے کہ انہوں نے سوچا ، غور کیا، محنت کی اور اپنے حالات کو درست کرنے کے بعد ایسی تدابیر نکالیں جس سے ان کی آمد ہم سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی۔جو لوگ 55 روپے فی من کے حساب سے کپاس کی آمد کا اندازہ لگاتے ہیں انہیں آمد بڑھانے کے متعلق سوچنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔جب وہ کپاس کی قیمت سات آٹھ روپیہ فی من لگائیں گے اور گندم کی قیمت پانچ چھ روپے فی من لگائیں گے تو انہیں اپنی آمد