خطبات محمود (جلد 34) — Page 333
$1953 333 خطبات محمود سینکڑوں میل دور رہتے تھے ہم نے آپ کو پناہ دی اور آپ کو مکہ والوں کے خلاف مدد دی۔مکہ والے غصہ میں آکر مدینہ پہنچے اور آپ پر حملہ کیا۔اس پر ہم آپ کے دائیں بھی لڑے اور بائیں بھی ای لڑے ، آگے بھی لڑے اور پیچھے بھی لڑے۔ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے آپ کا وطن فتح کر کے دیا۔مگر جب ہمارے خونوں سے آپ کی عزت قائم ہوئی اور آپ کا وطن مکہ فتح ہوا تو محمد رسول اللہ ﷺ نے سارا مال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا اور ہمیں اس سے محروم کر دیا۔انصار ایک بڑی مومن قوم تھے ، وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی باتیں سنتے جاتے تھے اور آہ وزاری سے ان کی ہچکیاں بندھتی جاتی ہے تھیں۔انہوں نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! ہم نے یہ نہیں کہا۔ہم میں سے بعض بے وقوف نو جوانوں الله نے ایسا کہا ہے بڑوں نے یہ بات نہیں کہی۔ہم سب اس سے بیزار ہیں۔آپ نے فرمایا اے انصار ! اس مسئلہ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔تم یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے اپنا آخری نبی کی مکہ میں بھیجا اور اس کی وجہ سے مکہ والوں کو عزت بخشی گئی۔لیکن مکہ والوں کی بدقسمتی اور ان کے بد اعمال کی وجہ سے وہ اپنے رسول کو مدینہ لے گیا اور جو نعمت مکہ کے لیے مقدر تھی وہ مدینہ کو دے دی گئی۔پھر خدا تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوئے اور غیر معمولی نشانوں کی مدد سے اُس نے اپنے رسول کو فتح نصیب کی جب اس نے مکہ فتح کر لیا اور کفر کو وہاں سے نکال دیا۔تو مکہ والوں کو یہ امید پیدا ہوئی کہ اُن کی نعمت انہیں واپس مل جائے گی۔لیکن ہوا یہ کہ مکہ والے تو اونٹ اور بکریاں ہانک کر لے گئے اور مدینہ والے خدا تعالیٰ کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔کیونکہ باوجود مکہ فتح ہونے کے رسول کے کریم ﷺ نے مدینہ نہیں چھوڑا۔پس آپ نے فرمایا اے انصار ! تم اس طرح بھی کہہ سکتے ہو۔انصار کی روتے روتے پھر ہچکیاں بندھ گئیں۔اور کہا یا رَسُولَ اللہ ! ہم نے یہ بات نہیں کہی 4۔اسی طرح آج انیس سال کے بعد یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں تمہارے اموال واپس کر دیتا ہے صلى الله اور کہتا انہیں سال تک جو مال تم نے دیاوہ مال تم لے جاؤ اور اپنے گھروں میں رکھو۔مگر جیسا کہ فتح مکہ کے بعد ہوا۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں کہتا مال اور دولت کی کوئی قیمت نہیں۔تم مال اور دولت اپنے کی گھروں میں نہ لے جاؤ بلکہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اُسکی رحمت اپنے گھروں میں لے جاؤ تم میں سے کوئی شخص مجھے بیوقوف سمجھے یا عقلمند سمجھے لیکن میں نے تمہارے لیے دوسری چیز کو قبول کیا۔جب انیس سال ختم ہونے کو آئے تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں تحریک جدید کو اُس وقت تک جاری رکھوں گا