خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 256

$1953 256 خطبات محمود تمہاری محبت الہی کا مل ہو جائے گی۔اور تمہاری نماز اپنی ذات میں مکمل ہو جائے گی۔غرض اسلام واہمہ کی تعلیم نہیں دیتا۔اسلام ہمیں یقین اور معرفت کے مقام پر پہچانا چاہتا ہے۔اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی نمازوں کو اس طرح سنوار کر ادا کریں اور انہیں اتنا اچھا اور اعلیٰ درجہ کا بنائیں کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ ہم سے اتنا تعلق رکھے کہ ہمارے ساتھ حسن سلوک کرنے والے سے وہ حسن سلوک کرے اور ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرنے والے سے وہ بُر اسلوک کرے۔اور دوسری طرف ہماری اپنی آنکھیں اتنی روشن ہوں اور ہمارے دل میں اتنا نور بھرا ہو کہ ہم کو خود بھی نظر آجائے کہ خدا تعالیٰ ہماری تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے۔جب یہ مقام کی شخص کو حاصل ہو جائے تو وہ ہر قسم کے شکوک وشبہات سے بالا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے روشن نشانات اس کی تائید میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اور وہ اس یقین سے لبریز ہو جاتا ہے کہ خدا اُسے ضائع نہیں کرے گا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ رہا ہوتا ہے، وہ اس کے حسن سلوک اور انعامات کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے اور وہ اس یقین پر مضبوطی سے قائم ہوتا ہے کہ دنیا اُسے چھوڑ دے مگر خدا اُسے نہیں چھوڑے گا۔نادان اس کو نہیں سمجھ سکتا۔مگر وہ جس نے خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو وہ ایسی مضبوط چٹان پر قائم ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اُس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔پچھلے دنوں جب فسادات ہوئے تو مجھے جماعت سے خطاب کرنا پڑا اور میں نے کہا کہ کیا تم نے گزشتہ چالیس سال میں کبھی دیکھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے چھوڑ دیا ہو؟ پھر کیا وہ مجھے اب چھوڑ دے گا ؟ ساری دنیا مجھے چھوڑ دے مگر وہ مجھے کبھی بھی نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ تو میری مدد کے لیے دوڑا آ رہا ہے۔میرے اس اعلان سے گورنمنٹ نے سمجھا کہ فساد ہو جائے گا۔اور اس نے سیفٹی ایکٹ کے ماتحت میری زبان بندی کر دی۔مگر واقعہ یہی تھا کہ خدا میری طرف دوڑا چلا آ رہا تھا اور جب مجھے دکھائی دے رہا تھا تی کہ خدا میری طرف آرہا ہے تو میں اس کو کس طرح چھپا سکتا تھا۔اور سیفٹی ایکٹ خدا تعالیٰ کی تائید سے ہمیں کس طرح محروم کر سکتا تھا۔وہ شخص جس نے خدا تعالیٰ کی تائیدات کو نہیں دیکھا وہ اگر انکار کرتا ہے تو اپنی نا بینائی کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن وہ شخص جس نے الہی نشانات کو بارش کی طرح برستا دیکھا ہو اور اس کی محبت کا مشاہدہ کیا ہوا سے یہ کہنا کہ تم نے ایسا کیوں کہا ہے بالکل ایسی ہی