خطبات محمود (جلد 34) — Page 235
$1953 235 خطبات محمود کہ اس کی قربانی خدا نے رد کی ہے، اس کے بھائی کی وجہ سے رد نہیں ہوئی۔مگر وہ لٹھ لے کر اپنے بھائی کی کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں تجھ کوقتل کر دوں گا۔اگر یہ شخص عقل اور دانائی سے کام لیتا اور خدا تعالیٰ سے معافی مانگتا تو خدا تعالیٰ اس کی قربانی بھی قبول کر لیتا۔لیکن بجائے اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ سے معافی مانگتا ، اُس نے یہ سمجھا کہ اس کے بھائی کی وجہ سے اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی چنانچہ اس نے اپنے تھی بھائی سے کہا کہ میں تجھ کو قتل کر دوں گا۔گویا جو خدا تعالیٰ کا فعل تھا وہ اس نے اس کی طرف منسوب کی کیا۔مگر اس کے بھائی نے دلیل والا طریق اختیار کیا اور کہا کہ میں تجھے مارنے کی کوشش نہیں کروں گا۔قربانی قبول کرنا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اگر تجھے اس بات پر غصہ آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تیری قربانی قبول کیوں نہیں کی تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔میں تو اپنے آپ کو ایک عاجز بندہ سمجھتا ہے ہوں۔یہ فطرت پرانے زمانہ کی تھی۔اس وقت نہ ڈکٹیٹر شپ کے الفاظ تھے نہ جمہوریت کے مگر وہ روح موجود تھی جس سے یہ دونوں چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔یہ روح جب سے حضرت آدم علیہ السلام پیدا کی ہوئے ہیں یا دنیا پیدا ہوئی ہے متوازی چلی آرہی ہے۔دنیا میں ایک طبقہ ایسا چلا آیا ہے جو ہمیشہ حق اور انصاف کا قائل ہوتا ہے اور دوسرا اپنے زور اور طاقت پر فخر کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ بہر حال ہم نے اپنی مرضی پوری کرنی ہے۔اگر لوگ ہماری مرضی کے مطابق نہ چلیں گے تو ہم حکومت ، جتھا اور طاقت سے دوسروں کو سیدھا کر دیں گے اور اپنی مرضی چلائیں گے۔مشہور ہے کہ ایک بھیٹر یا اور بکری کا بچہ ایک ندی کا پانی پی رہے تھے۔بھیڑ یا اس طرف تھا جس طرف سے پانی آرہا تھا۔بھیڑیے نے جب اس کا نرم نرم گوشت دیکھا تو اس کا جی چاہا کہ اسے کھالے چنانچہ اس نے غصہ سے اسے کہا کہ تم میرے پانی کو گدلا کیوں کر رہے ہو؟ بکری کے بچے نے کہا کہ حضور! میں پانی گدلا نہیں کر رہا کیونکہ پانی تو آپ کی طرف سے آرہا ہے۔اس پر بھیڑیے نے اس کے زور سے تھپڑ مارا۔اور یہ کہتے ہوئے اُسے چیر پھاڑ دیا کہ کم بخت! آگے سے جواب دیتا ہے۔گویا پہلے اس نے ایک غلط دلیل دی اور جب اسے اپنی غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تو اس نے دوسرا بہانہ بنالیا کہ آگے سے جواب دیتا ہے اور اسے مارڈالا۔یہی حال احمدیت کے دشمنوں کا ہے۔جب ان کے سوالوں کا ہماری جماعت کے دوست جواب دیتے ہیں تو وہ شور مچادیتے ہیں کہ ہمیں اشتعال دلاتے ہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام