خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 216

$1953 216 خطبات محمود بتایا کہ آپ کا ایک دوست تو پاگل ہو گیا ہے اور اس نے عجیب و غریب دعوے شروع کر دیئے ہیں۔اور دوسرے دوست نے اس پر کفر کا فتویٰ لگا دیا ہے۔انہوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس پر انہیں بتایا گیا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے انہیں کا فرقرار دے دیا ہے۔وہ کہنے لگے میں مولوی محمد حسین کو جانتا ہوں۔اُس کی طبیعت میں جوش پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ تحقیق نہیں کرتا۔اور ی مرزا صاحب کو بھی میں جانتا ہوں وہ قرآن کریم کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں کر سکتے۔انہیں ضرور کوئی غلطی لگی ہے یا لوگ ان کے متعلق جھوٹ بولتے ہیں۔بہر حال میں اتنا ضرور جانتا ہے ہوں کہ مرزا صاحب کو قرآن کریم سے کوئی بات دکھا دی جائے تو وہ اس کے خلاف نہیں ہے جاسکتے۔پھر کہنے لگے کہ اچھا اب میں اس جھگڑے کو نپٹانے کی کوشش کرتا ہوں۔اور پہلے مرزا صاحب کے پاس جاتا ہوں تا کہ ان سے دریافت کروں کہ بات کیا ہے۔چنانچہ وہ حضرت مسیح موعود کی کے پاس قادیان پہنچے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا۔میاں نظام الدین صاحب ! حج سے واپس آگئے ؟ انہوں نے کہا حضور ! حج سے تو واپس آ گیا ہوں مگر یہاں پہنچتے ہی میں نے ایک ایسی بات سنی ہے جس کی وجہ سے میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہے۔آپ نے فرمایا کیا بات سنی ہے؟ انہوں نے کہا میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ ٹھیک ہے۔میں یہی کہتا ہوں کیونکہ قرآن کریم سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔اگر قرآن سے اس کے خلاف بات ثابت ہو تو ہم اس کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔وہ کہنے لگے الْحَمدُ لِلہ میرے دل پر سے ایک بڑا بوجھ اُتر گیا ہے۔میں یہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب قرآن کریم کے خلاف نہیں جا سکتے۔اب آپ کی بتائیں کہ اگر میں قرآن کریم سے سو آیتیں ایسی لے آؤں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں تو کیا آپ اپنے عقیدہ کو چھوڑ دیں گے؟ وہ چونکہ ہر وقت یہی سنتے چلے آئے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اس لیے سمجھتے تھے کہ اس کے متعلق سو آمیتیں تو قرآن کریم میں ضرور ہوں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میاں نظام الدین صاحب ! اگر ایک آیت بھی نکل آئے تو ہم اپنے عقیدہ کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا خدا آپ