خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 211

$1953 211 خطبات محمود دن بھی اسی طرح ہوا اور وہ پھر اپنے قبیلہ میں واپس آئے 4۔اب دیکھو غفار قبیلہ میں اسلام کی تبلیغ کس نے پہنچائی ؟ کون اسے کہنے کے لیے گیا تھا کہ آؤ اور محمد رسول اللہ ہے کی باتیں سنو؟ کوئی مسلمان نہیں تھا جس نے اُسے تبلیغ کی ہو۔کوئی مسلمان نہیں تھا جس نے اُسے محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام دیا ہو۔صرف زمین و آسمان کا خدا تھا۔جس نے ابوذرغفاری کو اس طرف متوجہ کیا اور اُسے کہا کہ جا اور محمد رسول اللہ اللہ کی باتیں سن۔پس اگر ہر مسلمان کی زبان بندی کی جائے ، اگر ہر مسلمان کو تبلیغ سے روک دیا جائے ، اگر ہر مسلمان کو خدا اور اُس کے رسول کا پیغام پہنچانے سے منع کر دیا جائے تب بھی خدا کا پیغام رُک نہیں سکتا۔خدا خود آسمان سے لوگوں کے دلوں پر الہام نازل کرتا ہے اور وہ خود بخود ہدایت کی کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ہمارے پاس بیسیوں خطوط اس قسم کے آتے ہیں کہ ہم نے فلاں کی اب دیکھی ہے جس کی وجہ سے ہم احمدیت کو قبول کرتے ہیں۔ابھی امریکہ سے وہاں کے مبلغ نے کی ایک شخص کی چٹھی بھجوائی ہے جو ایم۔اے ہے اور جس میں اُس نے لکھا ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ ایک شخص بلند آواز سے کہہ رہا ہے۔" اس زمانہ میں محمود سے بڑھ کر اسلام کا کوئی خادم نہیں "۔اسی طرح بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم یہ نظر آئے اور آپ نے ہمیں کہا کہ اس شخص کو قبول کر لو۔اور جب خدا کسی کو آپ بتائے گا کہ یہ سچائی ہے تو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات کو رڈ کرنے کی کون شخص طاقت رکھتا ہے۔گورنمنٹ دروازوں پر پہرے لگا سکتی ہے ، گورنمنٹ مکانوں پر پہرے لگا سکتی ہے مگر گورنمنٹ جبریل کی زبان پر کس طرح پہرہ لگا سکتی ہے۔گورنمنٹ یہ کس طرح اعلان کر سکتی ہے کہ جبریل کسی کو کوئی بات نہ بتائے یا کسی کو کوئی ایسی خواب بھی نہ آئے جس میں اُسے سچائی کی خبر دی گئی ہو۔دنیا کی کوئی طاقت اور حکومت نہیں جو ایسا کر سکے۔دنیا کی کوئی طاقت اور حکومت نہیں جو اُس بات کو روک سکے جس بات کو خدا دنیا میں پھیلانا چاہتا ہو۔پس یہ جگہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کی جگہ ہے اور تم جو اس مقام پر بس رہے ہو تمہارا فرض ہے ہے کہ اپنے اندر ایسی نیک تبدیلی پیدا کرو کہ تمہیں دیکھنے والے یہ بات محسوس کریں کہ تم ایک نئی چیز ہو۔دنیا میں جب بھی کوئی ایسی چیز نظر آئے جو غیر معمولی ہو تو لوگ اُس کے متعلق خود بخود دریافت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے۔میں ایک دفعہ قادیان میں دریا